”اس خاتون کی وجہ سے سپریم کورٹ کے جج نے مجھے گاڈ فادر کہا “نواز شریف نے اب تک کی سب سے سنگین ترین بات کہہ دی

لاہور ( آن لائن )مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ گریڈ 19کی خاتون افسرکے پروموشن معاملے پر جسٹس عظمت سعید نے مجھے اڈیالہ جیل میں جگہ ہونے کی بات کی اور پھر گاڈ فادر اور سیسلین مافیہ کہا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ میرا عدلیہ کے کوئی جھگڑا نہیں ہے بس چندججوں سے اختلاف ہے ،جیسا میرے ساتھ برتاﺅ کیا جا رہا ہے ،اس طرح کے سلوک لیڈروں کو باغی کرتے ہیں ،شیخ مجیب الرحمان محب وطن پاکستانی تھے لیکن انہیں اس طرح کے سلوک کا نشانہ بنا یا گیا کہ وہ باغی ہو گئے ۔انہوں نے کہا کہ میں قوم کے وسیع تر مفاد میں سب کچھ بھول کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں ،ماضی کو بھولنے میں میری مد د کرو ،مجھے مزیدزخم نہ دو ،مجھے اس پوائنٹ پر نہ لے کر جاﺅں جہاں میں اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکوں ۔

میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو گارڈ فادر اور سیسلین مافیہ کے ریمارکس دینا غلط بات ہے ،مجھے اس جج نے یہ ریمارکس دئیے جس نے ایک19گریڈ کی خاتون افسر کی پرموشن کے معاملے پر مجھے کہا تھا کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہیے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے ،کیا ایک وزیراعظم کو اس طرح سے مخاطب کیا جاتا ہے ؟اس ریمارکس پر اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو خط لکھا تھا اورجسٹس عظمت سعید کے ریمارکس پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن وزیراعظم بھی ایک ادارے کا سربراہ ہے ،آپ پر بھی لازم ہے کہ اس ادارے کی عزت کریں ۔ان کا کہنا تھاکہ پچاس سال پہلے مارش لا لگتا تھا تو احساس ہی نہیں ہوتا تھاکہ کیا ہو گیا ہے،ہمیں کوئی اتنا ا حساس نہیں ہوتا تھا کہ ملک کا قانون اور آئین ٹوٹ گیا ہے لیکن جب جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بنا تو لوگوں کو احساس ہوا کہ بہت بڑا سانحہ ہو گیا ۔مشرقی بنگال والوں نے قائد اعظم کے ساتھ مل کر پاکستان بنانے میں قلیدی کردار ادا کیا ۔مسلم لیگ کا پہلادفتر 1906میں دفتر ڈھاکہ میں قائم ہوا تھا ،پاکستان کے لیے بنگالیوں نے سب سے زیادہ جد و جہد کی اورہم نے ان کو دھتکار دیا اپنے سے علیحدہ کردیا۔ نواز شریف نے کہامشرقی بنگال الگ ہونے کے حوالے سے کمیشن بنا اس نے سچی رپورٹ شائع کی لیکن اس رپورٹ پر آج تک کسی نے کان نہیں دھرے ،شائد اس پر عمل کر لیتے تو آج کا پاکستان نقشہ مختلف ہوتا اور اس طرح کے کھیل نہ کھیلے جا رہے ہوتے جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں کھیلے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مارشل لا کو قبول کیا اور عدلیہ نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا اور فوج سے کہا کہ آپ نہ آتے تو ملک غرق ہو جا تا ۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا بیان کسی بھی عزت دار ملک کے لیے قابل برداشت ہونا نہیں ۔ہمیں اس وجہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ایک غیر ملکی صدر پاکستان کے بارے میں اس طرح کے الفاظ کیوں ادا کر رہا ہے ؟ہم ایک خود مختار ملک ہیں ہمیں اس طرح کے الفاظ سے کیوں نواز ا جا رہا ہے ،اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں دیکھیں کیا ہو رہا ہے کتنے کیسز التوا کا شکار ہیں ،میں مذاق نہیں کر رہا مگر میں بھی وکیلوں کی فیسیں دے دے کر تھک گیا ہوں ،جب میں وزیراعظم تھا تو کاش مجھے پتہ ہوتا کہ انصاف کا حصول اتنا مہنگا ہے تو میں اس کے لیے کچھ کرتا ،وکیلوں کو پیسے ملنے چاہئیں لیکن غریبوں کے لیے وکیلوں کا انتظام ریاست کو کرنا چاہیے ۔نواز شریف نے کہا کہ اگر کسی کو میری شکل پسند نہیں ہے یا میر ی کوئیعادت بری لگتی ہے تو بتا دیں لیکن یہ کیسا فیصلہ ہے جس نے ملک کو ترقی کے سفر سے انتشار میں دھکیل دیا ،ان ججوں کو سیلوٹ کرتا ہوں جنہوں نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دے دیا جن کے طرح طرح کے قصے کہانیاں آج کل میڈ یا پر آرہے ہیں ،ایسا تضاد،کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ،مجھے آپ فرضی تنخواہ پر نکال رہے ہیں اور عمران خان کہتا ہے کہ آف شور کمپنی میری ہے لیکن اسے کہا جاتا ہے تم سو بار بھی کہو لیکن ہم نہیں مانیں گے کیونکہ یہ تمہاری آف شور کمپنی تمہاری نہیں ہے ۔