بہت بہت مبارک ہو

خاور فرید مانیکا کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسر ہیں‘ یہ پاک پتن کی مانیکا فیملی سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ لوگ بابا فرید گنج شکرؒ کے مرید ہیں‘ خاور فرید کے والد غلام محمد مانیکا سیاستدان تھے‘ یہ بے نظیر بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے‘ یہ 2011ء کے آخر میں انتقال کر گئے‘ خاور فرید کے بھائی احمد رضا مانیکا نے 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر این اے 165 سے الیکشن لڑا‘ خاور فرید اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ یہ ایچی سن کے طالب علم بھی رہے اور یہ امریکا میں بھی پڑھتے رہے۔

یہ امریکا میں ’’اسپورٹس کار ٹائپ‘‘ رئیس طالب علم تھے‘ یہ پاکستان واپس آئے‘ 1983ء میں سی ایس ایس کیا اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ جوائن کر لیا‘ یہ اس وقت گریڈ 21 کے آفیسر ہیں‘ ان کی شادی اوکاڑہ کے وٹو خاندان میں ہوئی‘ بشریٰ ریاض دیپالپور کے گاؤں کوئیکی سے تعلق رکھتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں پانچ بچوں سے نوازا‘ تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں‘ دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے اور یہ بچوں کی مائیں ہیں‘ ایک بیٹی پنجاب کے وزیر عطا مانیکا کی بہو ہے اور بیٹے ابراہیم مانیکا اور موسیٰ مانیکا فارن کوالی فائیڈ ہیں۔

خاور فریدمانیکا کی شخصیت دو حصوں میں تقسیم ہے‘ یہ کسٹم آفیسر ہیں اور یہ صوفی منش ہیں‘ کسٹم آفیسر کی حیثیت سے ان کا ماضی اچھا نہیں تھا‘ یہ لاہور‘ سیالکوٹ‘ ملتان‘ کراچی اور اسلام آباد میں تعینات رہے لیکن غلط شہرت کی وجہ سے زیادہ عرصہ اہم پوزیشنوں پر نہیں ٹک سکے‘ یہ جہاں بھی رہے جونیئر عملے نے ان پر کرپشن کا الزام لگایا‘ یہ کولیکشن اور اسپیڈ منی سے نہ صرف اپنا حصہ وصول کرتے تھے بلکہ یہ اپنے حصے سے زیادہ بھی لے جاتے تھے‘ یہ گفٹ وصول کرنے میں بھی بدنام تھے‘ یہ ملتان میں تھے تو ریحان نام کا ایک کلیئرینس ایجنٹ ملاقات کے لیے آیا‘ اس نے کلائی پر رولیکس گھڑی باندھ رکھی تھی‘ انھیں گھڑی پسند آ گئی۔
وہ بے چارہ گفٹ دینے پر مجبور ہو گیا‘ یہ واقعہ پورے ڈیپارٹمنٹ میں مشہور ہوا اور اس کے بعد کا ہر ملاقاتی اپنی اپنی قیمتی اشیاء گاڑی میں رکھ کر ان کے دفتر جاتا تھا‘ یہ بعد ازاں ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ بنے‘ یہ ان کے کیریئر کی شاندار ترین پوسٹ تھی لیکن یہ شکایات کی وجہ سے ہٹا بھی دیے گئے اور 2015ء کے پروموشن بورڈ میں ان کی پروموشن بھی نہ ہو سکی‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر تمام افسروں کو پروموٹ کر دیا یوں یہ 21ویں گریڈ میں پہنچ گئے لیکن یہ ماضی کی باتیں ہیں‘ یہ بتدریج ٹھیک ہوتے چلے گئے‘ یہ آج کل اچھی اور صاف ستھری شہرت کے حامل ہیں۔خاور فرید مانیکا کی شخصیت کا دوسرا پہلو روحانیت ہے۔

یہ طویل عرصے سے تسبیحات کر رہے ہیں‘ یہ پاک پتن کے دیوان کے رشتے دار بھی ہیں اور یہ جوانی سے صوفی ازم اور روحانیت کی طرف بھی مائل ہیں‘ ان کی بیگم بشریٰ مانیکا شروع میں ماڈرن خاتون تھیں لیکن یہ بھی روحانیت کی طرف متوجہ ہوگئیں‘ یہ وظائف کرنے لگیں اور یہ آہستہ آہستہ پنکی پیرنی کے نام سے مشہور ہو گئیں‘ یہ دونوں میاں بیوی ہر سال 5 محرم کو پیدل لاہور سے حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے مزار پر پاک پتن جاتے تھے‘ عمران خان کی ان لوگوں سے 2015ء میںعون چوہدری کے ذریعے ملاقات ہوئی ‘عمران خان اس مختصر سی ملاقات میں پنکی سے متاثر ہو گئے‘ یہ اس کے بعددونوں میاں بیوی سے اکثر ملاقاتیں کرنے لگے‘ بشریٰ بی بی نے اس دوران عمران خان کو وظائف بھی دیے اور برکت کے لیے انگوٹھی بھی ‘ یہ انھیں جلسوں‘ تقریروں اور بیانات کے لیے ’’سعد گھڑی‘‘ بھی بتاتی تھیں‘یہ پیری مریدی آج بھی قائم ہے۔

عمران خان کی آمد کے بعد میاں بیوی کے درمیان دوری پیدا ہونے لگی‘ خاور فرید مانیکا اس دوری کو روحانی اور قدرت کا اشارہ قرار دیتے ہیں‘ جولائی 2016ء میں یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں عمران خان نے بشریٰ بی بی کی بہن مریم مانیکا کے ساتھ تیسری شادی کر لی ہے تاہم مانیکا فیملی اور پی ٹی آئی نے ان خبروں کی تردید کر دی‘ عمران خان بشریٰ بی بی کی روحانیت کے کتنے قائل ہیں آپ اس کی مثال عائشہ گلا لئی کے واقعے سے لگا لیجیے‘عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ء کو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا‘ عمران خان الزام کے فوراً بعد3 اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا‘ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ’’آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے‘‘ ۔ عمران خان کا خیال تھا حکومت یہ ایشو اچھالے گی۔

کیس بنے گا اور حکومت انھیں صادق اور امین نہیں رہنے دے گی لیکن پیرنی کی بات درست اور خان صاحب کا خدشہ غلط ثابت ہوا‘ یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا‘ یہ روحانی سلسلہ چلتا رہا لیکن اس دوران میاں بیوی کے تعلقات خراب سے خراب ہوتے چلے لگے یہاں تک کہ بیوی نے خاوند سے طلاق مانگ لی‘ طلاق کے سلسلے میں دو اطلاعات ہیں‘ پہلی اطلاع‘ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید کو بتایا‘ مجھے نبی اکرمؐ کی زیارت ہوئی‘ آپؐ نے مجھے حکم دیا تم خاوند سے طلاق لے کر عمران خان کے ساتھ شادی کر لو‘ شادی کے بعد عمران خان کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی‘ یہ وزیراعظم بن جائیں گے اور پاکستان کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا اورخاوند نے پاکستان کے سنہرے دور کے لیے اپنی 30 سالہ رفاقت توڑ دی یوں بیگم بشریٰ مانیکا دوبارہ بشریٰ ریاض وٹو بن گئیں۔

یہ لاہور شفٹ ہوئیں اور والدہ کے ساتھ رہنے لگیں‘ عدت پوری ہوئی اور عمران خان نے انھیں رشتہ بھجوا دیا‘ دوسری اطلاع‘ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید سے خلع لی‘ عدت پوری کی اور یکم جنوری 2018ء کو لاہور میں عمران خان کے ساتھ نکاح کر لیا‘ یہ دونوں اب اعلان کے لیے مناسب روحانی گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں‘ خاور فرید اور پی ٹی آئی کا موقف ہے شادی ابھی نہیں ہوئی‘ خاور فرید مانیکا یہ بھی فرما رہے ہیں ہماری طلاق کی وجہ ناچاقی نہیںتھی کوئی روحانی ایشو تھا‘ ہم اس اعتراف کو خواب یا بشارت کی تصدیق سمجھ سکتے ہیں‘ یہ دونوں اطلاعات کہاں تک درست ہیں یا ان میں سے کون سی ٹھیک اور کون سی غلط ہے یہ فیصلہ وقت کرے گا تاہم یہ درست ہے عمران خان بشریٰ ریاض سے ٹھیک ٹھاک متاثر ہیں‘ یہ ان کے روحانی اثر میں بھی ہیں۔

مجھے عمران خان کے خاندان کے ایک فرد نے بتایا بشریٰ بی بی نے روحانی حساب لگا کر بتایا عمران خان کا لاہور کا آبائی گھر 2زمان پارک ان کے لیے ٹھیک نہیں‘ زمان پارک میں عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ نیازی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھیں‘ عمران خان نے پیرنی کے مشورے پر اپنا آبائی گھر گرا دیا‘ ان کی ہمشیرہ اب کرائے کے مکان میں رہتی ہیں‘ یہ حفیظ اللہ نیازی کی بیگم ہیں‘ ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہے‘ 2زمان پارک اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے‘ یہ اطلاعات بھی ہیں ‘ بشریٰ بی بی اور خاور فرید کا خیال تھا ریحام خان عمران خان کے سیاسی راستے میں رکاوٹ ہیں چنانچہ خان صاحب نے پیرنی کے اشارے پر یہ رکاوٹ ہٹا دی‘ یہ دونوں میاں بیوی عمران خان کے لیے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے‘ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کے لیے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی‘ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

عمران خان بشریٰ ریاض کو رشتہ بھجوا چکے ہیں‘ اللہ کرے یہ انکار نہ کریں‘ ان کے بچے بھی راضی ہو جائیں اور سابق خاوند بھی یہ رشتہ قبول کر لیں اور یوں دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے اگلے وزیراعظم کا گھر آباد ہو جائے‘ کم ازکم یہ باب بند ہو جائے‘ یہ بہت ضروری ہے‘ کیوں؟ اس کی چار بڑی وجوہات ہیں‘ عمران خان روحانیت پسند لیڈر ہیں‘ یہ پوری زندگی اپنا روحانی مرشد تلاش کرتے رہے‘ بشریٰ بی بی سے شادی کے بعد ان کی یہ روحانی تلاش ختم ہو جائے گی‘ یہ باقی زندگی روحانی اطمینان کے ساتھ گزار سکیں گے‘ دو ‘شادی کی خبروں نے عمران خان‘ بشریٰ بی بی اور خاوند فرید مانیکا کی زندگی ڈسٹرب کر دی‘ یہ تینوں کردار بدقسمتی سے میڈیا کا موضوع بن گئے‘ اگر اتنی گرد اڑنے کے بعد یہ شادی نہیں ہوتی تو تین خاندان باقی زندگی طلاطم میں گزاریں گے۔

یہ زیادتی ہے‘ تین‘ عمران خان کو واقعی ایک دین دار‘ وفادار اور مخلص ساتھی کی ضرورت ہے‘ یہ چالیس برس سے ہیرو کی زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ ملک کے واحد 66 سالہ سیاستدان ہیں جن کی شادی آج بھی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے‘ ہمارے ہیرو کو اب اپنی کشتیاں کسی ساحل پر لنگر انداز کر دینی چاہئیں تاکہ یہ وزیراعظم بننے کے بعد اطمینان سے حکومت کر سکیں اور چار مانیکا فیملی پچاس سال سے سیاست اور ساڑھے سات سو سال سے روحانیت کے شعبے میں ہے‘ عمران خان کے پیر خاور فرید مانیکا جولائی 2018ء میں ریٹائر ہو جائیں گے‘ یہ ریٹائرمنٹ کے بعد روحانیت اور سیاست دونوں شعبوں میں عمران خان کی معاونت کر سکیں گے یوں پاکستان کا حقیقتاً سنہری دور شروع ہو جائے گا‘ ملک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گاچنانچہ یہ شادی ملک کے روشن مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی ضروری ہے‘میری طرف سے تمام فریقین کو بہت بہت مبارک ہو‘ پاکستان زندہ باد‘ روحانیت پایندہ باد۔