آرمی چیف اور امریکی سنٹرل کمانڈکے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

راولپنڈی(ویب ڈیسک) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ اور امریکی سنٹرل کمانڈکے سربراہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہواہے،جس میں دوطرفپ تعلقات اور خطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہواہے۔
جس میں امریکی صدرٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد پاک امریکا سکیورٹی تعاون کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔آرمی چیف نے کہاکہ قوم سمجھتی ہے کہ ٹرمپ کی زبان دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔امریکہ سے مالی امداد کی بحالی نہیں چاہتے۔ پاکستان چاہتاہے کہ امریکہ پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف قربانیوں کااعتراف کرے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان امریکی مدد کے بغیر بھی دہشتگردی کیخلاف کوششیں جاری رکھے گا۔

اس موقع پرامریکی جنرل جوزف نے کہاکہ امریکا دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتاہے۔صورتحال عارضی ہے امریکا کاپاکستان میں کاروائی کاارادہ نہیں ہے۔افغانستان کیخلاف پاکستانی سرزمین استعمال کرنے والوں سے نمٹنے کیلئے تعاون چاہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل جوزف ایل ووٹل اور ایک امریکی سینیٹر نے رواں ہفتے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد پاک امریکہ سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
کمانڈر امریکی سینٹ کام جنرل جوزف ایل ووٹل نے آرمی چیف کو سیکیورٹی تعاون اور اتحادی سپورٹ فنڈ کے حوالے سے امریکی فیصلے کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی قدر کرتا ہے اور اسے امید ہے کہ حالیہ مشکل صورتحال ایک عارضی مرحلہ ہے ۔ انہوں نے آرمی چیف کو بتایا کہ امریکہ پاکستان کے اندر کسی یکطرفہ کارروائی پر غور نہیں کر رہا بلکہ افغان باشندوں سے نمٹنے کیلئے تعاون کا خواہاں ہے جو امریکی نکتہ نظر سے پاکستانی سر زمین افغانستان کیخلاف استعمال کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ یہ نکتہ نظر واشنگٹن میں پاکستان کے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کئی دہائیوں کے تعاون کے باوجود حالیہ امریکی بیانات کی وجہ سے سمجھتی ہے کہ ہمیں دھوکہ دیا گیااور پوری قوم کی طرف سے متفقہ نکتہ نظر سے ایسے ہی جذبات سامنے آئے ہیں ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان امریکہ کی مالی امداد کے بغیر اپنے قومی مفاد کے مطابق انسداد دہشتگردی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور دیگر سٹیک ہولڈر کے ساتھ اس جنگ کو منتطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پر عزم رہیں گے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں بڑی طاقتوں کی لڑائی کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان شہریوں کی پاکستان میں سرگرمیوں پر امریکی تشویش سے پوری طرح آگاہ ہے اور ہم آپریشن رد الفساد کے ذریعے پہلے ہی متعدد اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ ہر رنگ و نسل کے دہشتگردوں کی بچی کچھی صلاحیت کا خاتمہ کیا جا سکے جس کیلئے افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یکطرفہ طور پر بارڈر کنٹرول کو مستحکم کر رہاہے لیکن اگر افغانستان واقعی سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر سے متاثر ہو سکتا ہے تو دو طرفہ بارڈر مینجمنٹ لازمی طور پر کابل کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ آرمی چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان امداد کی بحالی کا خواہاں نہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنے کردار قربانیوں اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنے غیر متزلزل عزم کے باوقار طور پر اعتراف کی توقع رکھتا ہے ۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کیلئے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں امن خطے کے پائیدار امن اور استحکام کی جانب پیشرفت کیلئے واحد راستہ ہے ۔ کمانڈر سینٹ کام جنرل جوزف ایل ووٹل نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے چند حالیہ اقدامات کے موثر ہونے کا اعتراف کیا جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ افغان مہاجرین کی میزبانی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے ۔ جنرل جوزف ایل ووٹل نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک تعاون پر مبنی رابطوں سے مستفید ہو نے کے خواہاں ہیں۔