2013 کے انتخابات میں 544 ووٹ حاصل کرکے ممبر صوبائی اسمبلی بننے والے عبدالقدوس بزنجو وزیر اعلیٰ بلوچستان بن گئے مگر

کوئٹہ (ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کے ارکان نے عبد القدوس بزنجو کو صوبے کے نئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔ سپیکر راحلیہ درانی نے ووٹنگ کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کل 54 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 41 ووٹ حاصل کر کے عبد القدوس بزنجو کامیاب امیدوار ٹھہرے۔

2013 کے انتخابات میں وہ دوبارہ ضلع آواران سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ مسلح تنظیموں کی انتخابات کے حوالے سے دھمکیوں کے باعث آواران میں بلوچستان اسمبلی کی نشست پر6 سو سے زائد ووٹ پڑے تھے۔ قدوس بزنجو کو ان میں سے 544ووٹ ملے تھے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کامیاب امیدوارکو پڑنے والے سب سے کم ووٹ ہیں جبکہ اس خبر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کچھ حلقوں کی طرف سے اس بات پر آسمان سر پر اٹھایا جا رہا ہے, دوسرے لفظوں میں پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ بزنجو نے 2013 کے انتخابات میں 544 ووٹ لیے اور اتنے کم ووٹس کے باوجود وزارت اعلی کے حقدار ٹھہرے. ایسے لوگوں کی تصیح کیلئے عرض ہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے 2013 کے انتخابات میں آواران سے حصہ لیا جہاں ڈاکٹر اللہ نذربلوچ کا طوطی بولتا تھا.وہاں سے انتخابات میں حصہ لینا جان جوکھوں کا کام تھا اور ووٹ ڈالنے کی سزا قتل کر دیا جانا تھا.ایسے میں آواران کے لوگوں نے وطن سے محبت کا قابل قدر مظاہرہ کیا اورفیصلہ کیا گیا کہ ہر گھر سے ایک بندہ ووٹ کاسٹ کرے گا.چاہے اسکی جان ہی کیوں نہ چلی جائے.یہی وجہ تھی کہ بزنجو نے کم ووٹ لیے مگر یہ ووٹ ہزاروں لاکھوں ووٹوں کے برابر ہیں جس میں وطن سے محبت کی لازوال داستان رقم کی گئی اور آواران میں بھی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکا.عبدالقدوس بزنجو کی وطن سے محبت ڈھکی چھپی نہیں.ہمیں اس وقت بلوچستان میں ووٹوں کی اکثریت کی بجائے محب وطن وزیر اعلی کی زیادہ ضرورت ہے اور بزنجو اس عہدے کے حقیقی حقدار ہیں.

آج بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے امیدوار آغا سید لیاقت نے 13 ووٹ حاصل کیے۔ حلف برداری کی تقریب سہ پہر تین بجے ہورہی ہے۔ قدوس بزنجو کا تعلق مسلم لیگ ق سے ہے اور وہ ن لیگ میں سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سے منحرف اراکین اور ق لیگ کے متفقہ امیدوار تھے۔ اس سے قبل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال اپنی ہی جماعت کے امیدوار آغا لیاقت کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین میں سے ن لیگ کے 21، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14، نیشنل پارٹی کے 11، جمیعت العلما اسلام کے آٹھ، ق لیگ کے پانچ ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو اراکین ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی (عوامی )، مجلس وحدت المسلمین کے ایک، ایک رکن کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی ہے۔ جمیعت العلما اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) حزب اختلاف میں ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی قدوس بزنجو کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور مبصرین نے بھی میر عبد القدوس بزنجو کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا تھا۔قدوس بزنجو کا تعلق بلو چستان کے پسماندہ ترین ضلع آواران سے ہے۔ وہ اسی ضلع کی تحصیل جھاؤ میں 1974 میں پیدا ہو ئے۔ پہلی مرتبہ وہ سنہ 2002 میں ضلع آواران پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 41 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ دو ہزار دو سے2007 تک وزیر لائیوسٹاک رہے