ڈاکٹر شاہد مسعود کس کے بیٹے ہیں؟ انکی والدہ کیا کام کرتی تھیں؟ جانیئے سینئر صحافی کے بارے میں وہ باتیں جو آج تک پوشیدہ تھیں۔۔۔۔۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے معروف صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود زینب قتل کیس کے حوالے سے اس وقت خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں تاہم

ان کے بارے میں وہ معلومات سامنے آ گئی ہیں جو کہ ان کے قریبی ہی لوگوں کو معلوم ہو ں گی ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود پیشے سے فزیشن ہیں جن کے پاس جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی ڈگری جبکہ رائل کالج آف سرجن انگلینڈ کی فیلو شپ ہے۔ ان کی والدہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں جبکہ ان کے والد ایک سول انجینئر تھے، جنہوں نے 15 سال کے لگ بھگ سعودیہ عرب میں خدمات سر انجام دی ہیں۔ان کا بچپن طائف اور ریاض میں گزرا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے 2001 ءمیں میڈیا کو جوائن کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں نجی میڈیا نو مولود تھا اور نجی چینلز بھی گنتی کے تھے،اس وقت ڈاکٹر شاہد مسعود ایک چینل کے سینئر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات ہوئے۔ اس کے بعد ان کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ انہوں نے انٹرنیشنل ریلیشنز اور ڈیفنس اسٹڈیز میں بھی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔اسی چینل پر انہو ں نے اپنا پروگرام ”ویو ز آن نیوز“ شروع کیا۔ 2005 ء میں ڈاکٹر صاحب کو ایک بین الاقوامی میڈیا کی جانب اسکالر شپ ملی اور اس کے بعد 2007 ء میں انہوں نے ایک اور نجی چینل کو گروپ ایگزیکٹیو کے طور پر

جوائن کیا۔ یہاں پر انہوں نے اپنا پروگرام ”میرے مطابق“ شروع کیا اور شہرت کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دی۔اس کے بعد 2008ء میں ڈاکٹر صاحب کو 2 سالہ کنٹریکٹ پر پاکستان کے سرکاری نیوز چینل کا چیئر مین اور منیجنگ ڈائریکٹر بنایا گیا ۔ انہوں نے مبینہ طورپر سنجیدہ اختلافات کی بنیاد پر وہاں سے استعفیٰ دیا او ر اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر خاص مقرر ہو گئے جس کا عہدہ وزیر کے برابر تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی وی سے ان کی تنخواہ ساڑھے 8 لاکھ روپے اور مراعا ت تھی۔2014 ءمیں انہوں نے اس نجی چینل کو بطور مہمان تجزیہ کار جوائن کیا جس کے پروگرام ”لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود“ سے انہوں نے حالیہ ’خبر ‘ بریک کی جس کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور وہ آج کل زیر بحث ہیں۔نصر اللہ ملک صاحب نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ کام کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک کالم میں یہ دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نماز ، روزے کا عملی باغی انسان ہے ۔انہوں نے مزید لکھا کہ جب آزاد کشمیر میں تباہ کن زلزلہ آیا تو رمضان المبارک مہینے میں یہی موصوف سارادن روزےکےدعوے کے ساتھ صحافتی ذمہ داریاں

ادا کرنے پر عوام سے داد و تحسین پاتے تھے اور جونہی موقع ملتا تھا تو اپنی ائیر کنڈیشنڈ کار میں رکھے ٹھنڈے مشروبات سے تسکین پا کر سب کا مذاق اُڑاتے اور کہتے کہ کیسے بیوقوف ہیں جو میرے روزہ دار ہونے کا یقین کر لیتے ہیں۔یہ وہی صاحب ہیں جن کو قیامت کے حوالے سے مذہبی ڈاکومینٹریاں کرنے پر بھی شہرت حاصل ہوئی تھی۔اوپر بیان کردہ ماضی میں کہیں بھی اُن کا صحافت کا تجربہ ثابت نہیں ، ہاں اسکرین اینکر وہ رہے ہیں اور ریٹنگ لیتے رہے ہیں۔ اب انہوں نے جو دعویٰ کیا ہے ، وہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے بالکل خلاف ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر ان کا دعویٰ غلط ثابت ہو جائے ، جو کہ میرا یقین ہے کہ عقلی بنیادوں پر ہو جائے گا، تو سپریم کورٹ ہی قوم کو ایک ’اسکرین انٹرٹینر‘ سے نجات دلوا دے جو ایک عرصہ سے اسکرین پر صحافی کے روپ میں براجمان ہے اور اپنی غلط پیش گوئیوں سے قوم کو گمراہ کر رہا ہے ۔ صحافت ایک ذمہ دار پیشہ ہے جو کہ اس قسم کے مسخروں کی وجہ سے بدنامی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ۔