اسرائیل، سعودی عرب اور راحیل شریف

اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار ہیرٹز نے اپنی 2015ء کی اشاعت میں لکھا کہ,
” پاکستان ایران کی طرح آئے دن اسرائیل کو دھمکیاں نہیں دیتا۔ لیکن پاکستان ہی اسرائیل کے لیے اصل اور حقیقی خطرہ ہے ایران کی بہ نسبت” کچھ ہی عرصے بعد یروشلم پوسٹ نے دوبارہ سرخی جمائی کہ” پاکستان کے سپاہ سالار راحیل شریف نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائیگا”

جب راحیل شریف سعودی عرب میں ” مسلم اتحاد ” کے نام سے بنائی گئی فوج کے سربراہ بنے تو مختلف اسرائیلی مبصرین نے اسکو پاک فوج کی سعودی عرب میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کی کوشش قرار دیا, اس کے بعد اچانک پاک آرمی کے آفیسرز بڑی تعداد میں مسلم اتحادی فوج کی تربیت کے لیے سعودی عرب پہنچنا شروع ہوئے۔

چند ہفتے پہلے ہندوستان ٹائمز اور اسرائیلی اخبارات نے جلی حروف میں یہ خبر چھاپی کہ ” سعودی عرب کو درپیش خطرات کے پیش نظر پاک فوج کم از کم 3000 سپاہی یا ایک برگیڈ فوج سعودی عرب بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے جو وہاں جنگی لحاظ سے ایکٹیو سرحدوں پر حفاظت کریگی”

امریکی اخبار دی ڈپلومیٹ نے لکھا کہ ” آخر پاکستان اس وقت ہی سعودی عرب اپنے فوجی دستے کیوں بھیجنا چاہتا ہے؟” کچھ ایسی ہی تشویش کا اظہار اسرائیل اور پاکستان میں کام کرنے والی ایک مخصوص لابی نے بھی کیا, اسرائیلی مبصرین کے مطابق سعودی عرب آنے والے دنوں میں اپنے دفاع کےلیے مکمل طور پر پاکستان یا دوسرے لفظوں میں پاک فوج پر اںحصار کرے گا۔

راحیل شریف کو اس وقت سعودی عرب میں سب سے طاقتور غیر عرب شخصیت سمجھا جاتا ہے اور سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کے بہت زیادہ قریب, یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شریف خاندان کو سعودی حکمرانوں کی طرف سے کوئی لفٹ نہ ملنے کے پیچھے بھی راحیل شریف کا دباؤ تھا اور یہی دباؤ دبئی میں بھی کام کر رہا ہے,ان چند دنوں میں سعودی عرب میں دو بہت بڑے واقعات ہوئے, لبنانی وزیراعظم نے سعودی عرب جاکر استعفی دے دیا یا یوں کہہ لیں کہ ایک طرح سے پناہ لے لی اور وہاں سے حزب اللہ کے خلاف بیان جاری کیا۔

جبکہ دوسری طرف سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں اچانک بہت بڑے بڑے لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں ہیں جن میں زیادہ تر وہ ہیں جو اسرائیل کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں سب سے بڑا نام پرنس ولید بن طلال کا ہے۔ دنیا کا سب سے امیر مسلمان, ان دونوں معاملات کو اسرائیلی وزیراعظم نیتھن یاہو نے ” ویک اپ” کال قرار دیا اور یہ بھی کہا ہے کہ انہیں ایران سے لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ خبریں ہیں۔ ان کو جوڑ کر نتائج اخذ کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے کسی نے افواہ اڑائی تھی کہ راحیل شریف واپس آرہا ہے۔ کچھ دوستوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ ” وہ محاذ پر گیا ہوا سپاہی ہے۔ اپنے نخرے پورے کرنے نہیں بلکہ لڑنے گیا ہے اور اتنی آسانی سے واپس نہیں آئیگا.

میرے خیال میں سعودی عرب میں موجود مقامات مقدسہ اور سعودی عرب کی عالم اسلام میں ایک مرکزی حیثیت کے پیش نظر پاک فوج ہرگز نہیں چاہے گی کہ وہاں بھی عراق و شام کی طرح حالات خراب ہوں۔ جس کے لیے وہ اپنے طور پر ابھی سے پیش بندی کر رہی ہے۔

یہ چیز ہمیں نظر نہیں آرہی لیکن شائد امریکہ اور اسرائیل کو نظر آنے لگی ہی۔