دہشت گردی یا عشق گردی.. جواد اکبر

نقیب اللہ مسعود ایک خوبصورت، فلمی لوگوں کی طرح دکھنے والا وہ نوجوان جسے رات کے اندھیرے میں کراچی کی سڑکوں پر بے موت مار دیا گیا۔ آغاز میں تو اس واقعہ کو یہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی کہ مقتول ایک دہشت گرد تھا (مقتول دہشت گرد جو ایس ایس پی راؤ انوار پر حملہ کرنے کی کوشش میں مارا گیا تھا) نقیب کے قتل کی خبریں اور پھر اسکی اور اسکے بچوں کی تصویریں جیسے جیسے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی گئیں ، ذہن میں کئی سوالوں نے جنم لینا شروع کر دیا۔ میرا ذہن بھی پاکستانی عوام کی طرح بہت سی باتوں کا متلاشی ہوگیا کہ پاکستان کے خوبصورت مقامات پر دوستوں کے ساتھ غل غپاڑے کرنے والا نوجوان دہشت گرد کیسے ہوسکتا ہے؟

گزشتہ دنوں سینئر صحافی جمیل فاروقی کا کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا تو اُس میں کچھ ایسی چیزیں پڑھنے کو مل گئیں جن میں سے کئی پہلے ہی ذہن پر سوار تھیں ۔معروف صحافی جمیل فاروقی نے اپنے کالم میں لکھا کہ ’’ ایک خوبصورت نوجون جو سڑک کنارے ٹہل رہا تھا اور بے صبری سے کسی کے فون کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اسکے فون کی گھنٹی بجی، فون پر۔۔۔ دوسری جانب اس کے سپنوں کی رانی تھی (جسے وہ پیار کرتا تھا) لڑکی نے فون پر پہلی بات یہ کہی کہ میں تو شادی کے لیے تیار ہوں مگر تمہارا کیا خیال ہے؟ نقیب نے یہ سنتے ہی کہا کہ تیار تو میں بھی ہوں مگر تھوڑا سا ڈر لگ رہا ہے۔ ڈر اپنے بیوی اور بچوں کا بھی اور تمہارے گھر والوں کا بھی۔ لڑکی سندھ کی اعلیٰ شخصیت کی بیٹی تھی، لیکن دونوں یہ نہیں جانتے تھے کہ فون ٹیپ کیا جارہا ہے۔ لڑکی کے والد کی جانب سے لڑکے یعنی نقیب کو سبق سکھانے کا ٹاسک ایس ایچ او صاحب تک پہنچا ، انہوں نے بال راؤ انوار کے کورٹ میں پھینکی تو راؤ صاحب نے یہ کہتے ہوئے معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا کہ ’ سائیں حکم کریں اسکو دہشت گرد بنا دیتے ہیں، اور پھر نقیب کو دہشت گرد بنا دیا گیا ۔

سینئر صحافی کے انکشافات پر مبنی کالم سے ذہن میں پیدا ابہام حقیقت کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی نوجوان رات کو باہر نکلے اور کوئی بھی سر پھرا اُسے پکڑ کر مار دے، ہاں کچھ صورتوں کے علاوہ یہ ممکن ہی نہیں ۔۔ ۔ نقیب اللہ کا خون بہائے جانے کے بعد آغاز میں تو راؤ انوار حسب معمول کریڈٹ لینے کے چکروں میں تھے لیکن اچانک گنگا اُلٹی بہنا شروع ہوگئی اور ناجانے کتنے ہی بے گناہوں کو مارنے والا خود سر چھپانے پر مجبور ہوگیا ۔(وہ کہتے ہیں نہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہو تی ہے ) اور سب کا دھیان معطل ایس ایس پی کی گرفتاری کی جانب لگ گیا۔ پیشی سے لے کر گرفتاری کی طرف چل پڑے، اور میڈیا میں ایک تجسس پیدا کر دیا گیا کہ فرار ہوگیا، ہونے کی کوشش، اور اسکے گھر پر چھاپہ وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن ابھی تک ہاتھ کچھ نہیں آسکا ۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ نقیب کے موبائل فون کا ریکارڈ ابھی تک کیوں نہیں حاصل کیا گیا ؟ اور اگر حاصل کر لیا گیا ہے تو کہاں ہے؟ اُسے اس عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا جسے گزشتہ تین ہفتوں سے پاگل بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

راؤ انوار کو ہسٹری کو کون نہیں جانتا جب چاہے جدھر چاہے دہشت گرد اور دہشت گردی کا سامان برآمد کرتے ہوئے پولیس مقابلہ کر دیتا ہے ۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں بھرتی ہونے والا پولیس افسر ایس ایس پی کے رینک تک صرف اس لیے پہنچا تھا کہ لوگوں کو بے موت جب چاہے جدھر چاہے مار ڈالے ؟ راؤ انوار کے بارے میں یہ بھی شنید ہے کہ اس کا اپنا بیٹا بھی دہشت گردی کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مارا جاچکا ہے، تو کیا وہ اپنے بیٹے کے قتل کا بدلا بے گناہ لوگوں سے وصول کرے گا؟ دوسری جانب موصوف یہ دھمکیاں بھی دیتے پھر رہے ہیں کہ میں سب کے راز فاش کر دونگا، یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ ایسے کونسے راز ہیں جو وہ فاش کرنا چاہتا ہے؟ کیا اُسے بھی سیاسی طور پر ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے اور جب مقاصد پورے ہوچکے یا وہ گلے کی ہڈی بننے لگے تو اُسے منظر سے ہٹانے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہو؟نقیب کا معاملہ کوئی اور رخ اختیار کر سکتا ہے اگر اس معمالے کی تحقیقات مؤ ثر طریقے سے کی جائیں ۔ جو اطلاعات ہیں تو اس سے یہ ہی لگتا ہے کہ معاملہ دہشت گردی کا نہیں عشق گردی کا ہے ۔ تاہم اگر مؤثر تحقیقات کا طریقہ اپنایا جائے تو اصل حقائق تک پہنچا جاسکتا ہے اور آئندہ کسی بھی خوبصورت نوجوان کو نقیب بننے سے بچایا جا سکتا ہے ۔