ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس: سپریم کورٹ کا شعیب شیخ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ دیگر 6 ملزمان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
مذکورہ کیس کی 7 فروری کو ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کے تمام ملزمان کو 9 فروری کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر جعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو کوئی نہیں بچ پائے گا، سب کا نام ای سی ایل میں ڈالیں گے۔
ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس
دنیا بھر میں جعلی ڈگری کا کاروبار کرنے والی کمپنی ایگزیکٹ کا انکشاف 18 مئی 2015 کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کیا تھا۔
ایگزکٹ کا جعلی ڈگریوں کا اسکینڈل دنیا بھر میں پاکستان کے لیے بدنامی کا باعث بنا کیونکہ ایگزیکٹ جعلی ڈگری، پیسے چھاپنے اور لوگوں کو بلیک میل کرنے کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا چکی تھی۔
کمپنی کا اسکینڈل سامنے آنے پر حکومت، ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے مل کر بھرپور کارروائی کی اور کمپنی کے مالک شعیب شیخ، وقاص عتیق سمیت جعلی ڈگری کا دھندا کرنے والے کئی افراد حراست میں لے لیے گئے۔
عالمی جریدوں اور ٹی وی چینلز نے اس معاملے پر کڑی تنقید کی جبکہ امریکا میں فرنٹ مین پکڑا گیا جسے اعتراف جرم اور بھانڈا پھوڑنے کے بعد سزا ہوئی۔
جعلی ڈگری اسکینڈل کے خلاف پاکستان میں کراچی اور اسلام آباد میں مقدمات درج ہوئے، کارروائیاں تیز کی گئیں مگر پھر کارروائی کی راہ میں چند پراسرار موڑ آئے اور معاملہ خفیہ قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوگیا۔
بعدازاں ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں سے متعلق رپورٹس دوبارہ سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا۔