پاکستان میں قطری گاڑیوں کا راج    

ملک میں شکار کیلئے آنے والے خلیجی معززین کی گاڑیوں کی آڑ میں قیمتی گاڑیاں لانے اور کروڑوں روپے کی کسٹم ڈیوٹی چرانے کا انکشاف ہوا ہے۔
کسٹمز ذرائع کے مطابق ستمبر 2016 میں ایک قطری شہزادے کی شکاری پارٹی کے ہمراہ 22 قیمتی گاڑیاں تین ماہ کے خصوصی اجازت نامے پر پاکستان لائی گئیں۔
2017 ماڈل کی ان گاڑیوں میں مرسیڈیز، ٹویوٹا لینڈ کروزر، وی ایٹ، اور رینج روور چیپیں شامل ہیں۔
اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود یہ گاڑیاں واپس نہیں گئیں بلکہ پاکستان میں فروخت کردی گئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو خریدنے والوں میں ملک کی اعلیٰ شخصیات شامل ہیں، جو ملک بھر میں قطر کی ہی نمبر پلیٹ کے ساتھ سڑکوں پر چل رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جب کسٹمز حکام نے کراچی میں قطری نمبر پلیٹ لگی تین نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پکڑا تو انہیں اعلیٰ حکومتی اور سرکاری شخصیات کے زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
کسٹم حکام نے پکڑی گئی گاڑیاں تو قبضے میں رکھیں لیکن ملزمان کو چھوڑنا پڑا، دباؤ اس قدر شدید تھا کہ ملزمان کے شناختی کارڈ اور دیگر تفصیلات بھی لینے سے روک دیا گیا۔
کسٹمز ذرائع نے بتایا کہ قطری شہزادے کے ہمراہ لائی گئیں 22 میں سے تین گاڑیاں پکڑی گئی ہیں، تین گاڑیاں لاہور میں فروخت ہوئیں جبکہ باقی گاڑیاں کراچی ڈیفنس کے علاقے گزری لین کے ایک بنگلے میں کھڑی ہیں۔
پانچ فروری کو پکڑی گئی تین گاڑیوں کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا۔
کسٹمز ترجمان کا موقف ہے کہ گاڑیوں کے بارے میں وزات خارجہ کو خط لکھ کر تفصیلات معلوم کی جارہی ہیں۔
چند دن قبل فلپائین میں بھی بڑی تعداد میں اسمگل گاڑیاں پکڑی گئیں تھیں اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے تمام قیمتی گاڑیاں بلڈوزر سے تباہ کردی گئیں۔
کسٹمز ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سیکڑوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اعلیٰ حکام سرکاری اداروں، ارکان اسمبلی اور حکومتی و سیا سی رہنماؤں کے زیر استعمال ہیں۔