چرس کیا ہے ، کیسے بنتی ہے ؟اور طبی نکتہ نظر سے اسکے دنگ کر ڈالنے والے فوائد ،تشویشناک نقصانات

لاہور (ویب ڈیسک) مجھ جیسا ایک شہری پہلی مرتبہ گاؤں گیا تو اس نے سامنے نظر آنے والے دیہاتی سے پوچھا کہ یہ جو تمہاری گائے ہے، اس کے سینگ کیوں نہیں ہیں؟ جواب آیا بعض کے لڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں، بعض کے ہم نکال دیتے ہیں، کچھ کے تو قدرتی طور پہ ہی نہیں ہوتے

نامور مضمون نگار حسنین جمال اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن جس کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں وہ بہرحال ایک گدھا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ چرس پینے والے ہر دس میں سے ایک فرد پہ چرس کا اثر کچھ خاص اچھا نہیں ہوتا۔ یعنی عام آدمی چرس سے جس طرح لطف اندوز ہو سکتا ہے اس طرح ایک خاص آدمی، جو دس میں سے ایک ہوتا ہے، وہ بے چارہ ویسے انجوائے نہیں کر سکتا۔ عام طور پہ چرس انسان کو شاعروں والی یک گونہ بے خودی میں لے جاتی ہے۔ پینے والا خوشی محسوس کرتا ہے، دنیا زیادہ رنگین لگتی ہے، سکون کا احساس ہوتا ہے، بے کار سے بے کار گانا خواہ مخواہ پرلطف لگتا ہے اور تھکن کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ جو بدنصیب اسے پچا نہیں سکتا وہ لو بلڈ پریشر کا شکار ہو جائے گا، گھبراہٹ ہونے لگے گی، الٹی سیدھی آوازیں سنائی دیں گی، گائے اور گدھے میں فرق نہیں کر سکے گا، طرح طرح کے وہم آئیں گے یا پھر وہ بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ تو چرس دوسرے نشوں کے برعکس ایک رسکی نشہ ہے۔ رسکی ہونے کے باوجود چرس پاکستان کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نشہ ہے۔

ایک اخباری خبر کے مطابق عالمی رینکنگ کے حساب سے اپنا کراچی پوری دنیا میں چرس استعمال کرنے والوں کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ پہلے نمبر پر نیویارک ہے۔ چونکہ یہ رینکنگ ایک اسرائیلی ادارے کی تھی اس لیے فقیر زیادہ پریشان نہیں ہوا۔ ہمارے یہاں چرس پینے کا عمل بہت سست رفتار قسم کا ہے۔ پہلے چرس کے ڈلے سے تھوڑی سی چرس الگ کریں (حسب توفیق)، پھر اسے گول مول کریں، پھر ایک سگریٹ کا تمباکو نکالیں، اسے صاف کریں، پھر کسی ماچس کی تیلی میں وہ تھوڑی سی چرس پھنسا کے اسے جلائیں، وہ پگھلے تو اسے تمباکو میں مکس کریں، پھر سگریٹ میں وہ تمباکو دوبارہ بھریں، پھر سگریٹ کو اوپر سے گھما کر لاک لگائیں ۔۔۔ اس سے بھی زیادہ مشکل کام رذلا سے جوائنٹ بنانا ہے، مطلب کاغذ بھی پلے سے خرید کے رول کریں اور باقی محنت سب کی سب وہی، لاحول ولا قوة، اتنی محنت کے بعد ایک سگریٹ پینے سے بہتر یہ نہیں ہے کہ بندہ ویسے ہی نیند کی گولی کھا کے سو جائے؟ چرس کی خوشبو کچھ سفیدے کے پتوں جیسی ہوتی ہے۔ دور سے پہچانی جاتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں دشمن کی مخبری موبائل فون کی سم سے زیادہ چرس کا دھواں کرتا ہے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ چرس اگر خالص ہو تو وہ ایک قسم کی آرگینیک چیز ہی ہوتی ہے۔

بھنگ کے پتے کاٹ کے کھلی جگہ پہ رکھ دیتے ہیں، بارش ہو برفباری ہو تب بھی نہیں ہٹاتے، بعد میں جب وہ پتے اچھی طرح سیزنڈ ہو جاتے ہیں، دھوپیں کھا لیتے ہیں تو ان میں سے گردا نکالا جاتا ہے، پھر اسے دنبے کی کھال میں بیس پچیس دن کے لیے رکھ کے تھوڑا نرم کرتے ہیں، آخر میں اسے معمولی سی تپش دے کے چرس تیار ہوتی ہے۔ مسئلہ وہاں آتا ہے جب اسے زیادہ بھرپور پروگرام بنانے کے لیے ساتھ مختلف کیمیکلز ملائے جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ چرس کے خود کفیل علاقوں میں بھی خالص چرس ملنا اتنا ہی مشکل ہے جیسے آپ گوجرانوالہ میں دیسی گھی ڈھونڈنے نکل جائیں۔ بلکہ دور کیوں جاتے ہیں، بغیر سوڈے کا گڑ اپنے آس پاس تلاش کر کے دکھا دیں۔ ایک پراپر نشہ آور شے ہونے کے باوجود چرس عام طور پہ بہت لائٹ لی جاتی ہے۔ ہمارے آس پاس کی دنیا میں اس کا شمار دوسرے بڑے مکروہات کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔ کسی چرس پینے والے بابا جی کو ساتھ بٹھائیں تو وہ آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ اس کے بعد بھوک کھل کے لگتی ہے، نیند بڑی اچھی آتی ہے، سب سے عظیم پین کلر ہے اور “کنسنٹریشن” قائم رکھنے میں مدد بھی دیتی ہے۔

ویسے یہ توجہ برقرار رکھنے والی بات کافی حد تک ٹھیک بھی ہے۔ جب بھی پہاڑی علاقوں کی طرف جانا ہوا، ہمیشہ دوست یار ساتھ ہوتے تھے۔ انتظامات کی شکل کچھ ایسے بنتی تھی کہ اسلام آباد سے ہی کوسٹر یا وین کرا لی جاتی اور چل سو چل۔ آج تک، مارک مائے ورڈز ڈئیر ریڈر، آج تک جتنے بھی سفر کیے الحمدللہ کوئی ایک ڈرائیور بغیر چرس کے گاڑی چلاتے نہیں دیکھا۔ اب تو اتنی عادت ہو گئی ہے کہ اگر کبھی کوئی اللہ کا بندہ بغیر اس ذوق لطیف کے بس چلاتا پکڑا گیا تو اس کے ساتھ باقی سفر کرنا بھی مشکل ہو جائے گا، خدا جانے کب کہاں گاڑی ٹھونک دے۔ چرس کا نقصان سگریٹ کے سائیڈ ایفیکٹس سے شاید ہی زیادہ ہوتا ہو لیکن اس پر پابندی لگانے کا نتیجہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ چرس دوسرے نشوں کی طرف راہ ہموار کرتی ہے۔ ماضی میں کی گئی مختلف ریسرچز (جن کا ڈیٹا زیادہ تر جوان بچوں کے اماں ابا کے پاس ہوتا ہے) کے مطابق اکسٹیسی، کوکین، کیٹامین، ایم ڈی ایم، آئس، ایل ایس ڈی، افیم، ہیروئین، پنک اور سپائس جیسے نشوں کی طرف جانے والے نوجوان اکثر پہلی سیڑھی ادھر سے ہی چڑھتے ہیں۔ ماضی میں دیکھا جائے تو

برصغیر میں افیم اور بھنگ اس قدر عام تھی جتنا کوئی جھوٹ بولے۔ بھنگ کے بارے میں تو ایک بڑے مزے کا شعر ہے؛ ساوی نئیں اے گھاہ اے، عاشقاں کوں مباح اے (یہ بھنگ نہیں ہے بابا یہ تو گھاس ہے اور یہ عاشقوں کے لیے حلال ہے)، یہی معاملہ افیم کا تھا۔ بڑے بڑے شاعر، ادیب، داستان گو، جب تک افیم کی ڈلی ساتھ نہ رکھتے، پیالی میں مکسچر تیار نہ ہوتا، تب تک ان کے لیے کام کرنا حرام تھا۔ اس کی سادہ ترین وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت تک نشے کومپلیکسڈ نہیں ہوئے تھے۔ افیم اور بھنگ سے آگے بڑھ کے انہوں نے جانا کہاں تھا؟ گانجا یا تاڑی بھی انہی دونوں کے بہن بھائی تھے اور تاثیر میں بھی تھوڑا آگے پیچھے تھے تو کام چل جاتا تھا۔ پھر اس وقت نشے کی سوشل ایکسیپٹنس آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ وجہ یہی تھی کہ اس کار لطیف کو بدنام کرنے والی چیزوں نے اینٹری نہیں ماری تھی۔ اگر اس وقت ہیروئن یا مورفین کے ٹیکے عام ہوتے تو شاید تب ہی تمام بھنگیوں، افیمیوں اور چنڈو خانے والوں کو دیس نکالا مل جاتا۔ یہی سب کچھ آج چرس کے ساتھ ہوا ہے۔ کراچی میں چرس کا بڑھتا رجحان دیکھ کر ثقہ حضرات توبہ توبہ کریں گے،

“نشے میں کہیں وہ تنہا نہ رہ جائے” والی پارٹیاں مزید بجٹ اشتہار بازی پہ لگائیں گی لیکن یہ ہمیں کوئی نہیں بتائے گا کہ دنیا میں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں (مثلاً امریکا کی چند ریاستیں) جہاں چرس، ویڈ یا کینیبس قانونی طور پہ استعمال کرنا جائز ہیں۔ جہاں ازروئے قانون جائز نہیں وہاں بھی اسے کلاس ون ڈرگ میں رکھا جاتا ہے یعنی طبی مقاصد کے لیے اس کا استعمال پھر بھی “مباح” ہے۔ ڈاکٹر سنجے گپتا ایک نیورو سرجن ہیں۔ 2013 میں ان کی ایک ڈاکیومینٹری فلم بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے دکھائی ( وہی ادارہ جو ہمارے یہاں خبریں دکھاتا تھا اور ہم ان خبروں پہ چوکور ڈبیاں بنا کے سنسر کرتے تھے اور جس کا توڑ ململ کے دوپٹوں میں سے سکرین کو دیکھنا ہوا کرتا تھا)۔ تو ڈاکٹر سنجے گپتا نے ایک سال تحقیق میں لگایا اور انہوں نے بتایا کہ چرس اور کینیبس کو شیڈول ون میں رکھنے (مشروط طور پہ منع ہونے اور بطور دوا مستعمل ہونے) کی کوئی خاص سائنسی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ اس کے بہت سے طبی فائدے ہیں نیز یہ کہ انسان اس کا اتنا زیادہ عادی ہوتا نہیں ہے جتنا میڈیا پہ شور مچایا جاتا ہے۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ اس سے آئی کیو کم ہو سکتا ہے یا دماغ کی گروتھ میں کمی آ سکتی ہے لیکن مجموعی طور پہ انہیں چرس کے فوائد اس کے نقصانات سے بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔ اب یہ ڈاکٹر سنجے گپتا کی رائے تھی۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا، واہ پیا جانے تے راہ پیا جانے، پینے والا جانے اور اسے پوچھنے والے جانیں، نیک و بد یہی تھا جو حضور کو سمجھا دیا۔ چرس نامہ ختم ہوتا ہے۔ خیال رکھیے، چرس یا کوئی بھی نشہ حالات کی انگلی پکڑ کر شروع کیا جاتا ہے۔ بچوں کا ماحول اور زندگی ٹینشن لیس رکھیں، باقی اللہ سائیں بہتری کرے گا۔