گیس کا درد ، آزمودہ ٹوٹکوں سے علاج

گیس کا درد اپنے اندر وسیع مفہوم سمیٹے ہوئے ہے ۔اس کی وجہ معدے میں ہونے والی خرابی بھی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا افراد بہت زیادہ بے چینی اور تکلیف کا شکار نظر آتے ہیں۔اگر گیس کے درد کی نوعیت اچانک اور شدید ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ بیماری کی تشخیص اور اسکا علاج ہو سکے ۔

گیس کا درد ہونے کی وجوہات
ہمارے ہاضمے کا عمل اس وقت شروع ہو جاتا ہے ۔جب غذا منہ سے گزر کر ہمارے معدے میں داخل ہو جاتی ہے غذا کے ہضم ہونے کا انحصار ایمائنو ایسڈ ،گلوکوز اور روغنی تیزابوں پر ہو تا ہے. اگر معدے کا فعل اور ہاضمے کا عمل ٹھیک ہو تو آنتوں میں غذا کے جذب ہونے کے بعد فضلہ خارج ہو جاتا ہے اور گیس کا درد نہیں ہوتا ۔اس پورے نظام کا اثر دوران خون پر بھی پڑتا ہے ۔اگر زہریلا اور بیکار مادہ جسم سے پوری طرح خارج نہیں ہو پاتا یا اس کا کچھ حصہ خون میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کی وجہ سے پورا بدن متاثر ہوتا ہے .

جسم کے مختلف حصوں میں گیس چلی جانا

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو غذا معدے میں داخل ہوتی ہے تو خون کی کافی مقدار ہاضمے کے عمل میں مدد دینے کے لئے پہنچ جاتی ہے۔ خون ہی کی مدد سے ایک قسم کی رطوبت پیدا ہوتی ہے ۔یہ رطوبت غذا کو اُس شکل میں تبدیل کرتی ہے جسے جسم ہضم کر سکے ۔یعنی اس کے مفید اجزاء کو خون میں تبدیل ہونے کے قابل بناتی ہے اور غیر ضروری مواد کو انتڑیوں کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔جب کوئی شخص اس وقت جب کہ اُس کے معدے کو ہضم کرنے کے لئے خون کی مدد کی ضرورت ہو ،ذہنی تناؤ یا غلط جسمانی پوزیشن میں ہوگا تو خون معدے کی طرف نہیں جا پائے گا بلکہ دماغ کی طرف چلا جائے گا ۔نتیجہ یہ ہو گا کہ معدہ اپنا عمل ٹھیک طور سے نہیں کرے گا اور معدی رطوبت پیدا نہیں ہوگی یا بہت کم پیدا ہو گی ۔ اس کے باعث غذا ٹھیک طرح ہضم نہیں ہو پائے گی ۔

کچھ لوگوں کو گیس کا درد اُلٹے ہاتھ یا کندحے میں یا پیٹ میں محسوس ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اُنھیں دل کا درد ہے جب ہم تیز تیز کھانا کھاتے ہیں یا اسٹرا سے جوس پیتے ہیں چیوگنم ،ٹوفیاں ،آئس کریم یا اور چوسنے والی اشیاء کھاتے ہیں تو کچھ ہوا ہمارے پیٹ میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس سے بھی گیس کی تکلیف ہو سکتی ہے۔ یوں تو قدرتی طور پر گیس خارج ہو جاتی ہے مگر جن کا ہاضمہ خراب رہتا ہو یا قبض رہتا ہو تو وہ ہوا اُن کے جسم کے مختلف حصوں میں درد کی وجہ بن جاتی ہے ۔

مفیدٹوٹکے
*صبح ناشتے میں پانی یا دودھ میں اسپغول کے چھلکے گھول کر استعمال کرنا چاہئے ۔
*سونف کو توے پر بھون کر کسی ڈبے میں بھر کر رکھ لیں ۔صبح شام کو ایک ایک چمچ کھا لیں گیس نہیں ہوگی ۔
*صبح چائے کا استعمال بھی گیس ختم کرتا ہے ۔
*الائچی کے پاؤ ڈر کو ایک گلاس پانی کے ساتھ پئیں ،فوری درد میں آرام آجائے گا۔
*سونف کی چائے پینے سے بھی گیس کے درد میں آرام آجاتا ہے ۔
*کھانے کو چباچبا کر کھانے سے گیس نہیں ہوتی ۔تیز تیز کھانا کھانے سے معدے پر زور پڑتا ہے اور درد ہوتا ہے ۔
*کھانا کھانے کے بعد پانی نہیں پینا چاہئے ۔
*کھانا کھانے کا وقت مقرر کریں اور اس کی پابندی کریں ۔
*کھانے میں ادرک ،کالی مرچ کا استعمال زیادہ سے زیادہ رکھیں ۔
*چائے کی جگہ سبز چائے کا استعمال کرنا چاہئے۔
*کھانوں میں لال مرچ کی جگہ ہری مرچ استعمال کریں ۔
* لہسن کے سوپ کااستعمال بھی گیس کے درد میں مفید ہے ۔
*ہلدی کا استعمال کھانوں میں زیادہ سے زیادہ کریں ۔
* اپنی ٹوائلٹ روٹین بنا لیں اور اس کی پابندی کریں ۔
* اجوائن ،سونف ،کالی مرچ اور پودینے کی چائے بنا کر نہار منہ یا سوتے وقت پینے سے گیس نہیں ہوتی ۔
* گیس کے درد میں امرود کے نرم پتے پیس کر پانی میں حل کر کے پینے سے آرام ملتا ہے
* مولی کے رس میں نمک ڈال کر پینے سے درد ٹھیک ہو جاتا ہے
*رائی کو پانی میں پیس کر ململ کا کپڑا بچھا کر لیپ کریں اور دس منٹ بعد ہٹا دیں ۔
*پیٹ کے درد میں حیرت انگیز فائدہ ہو گا ۔زیرہ پیس کر شہد کے ساتھ چاٹنے سے پیٹ کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت