جنرل ضیاءالحق بن جائیں

آپ اور میں آئیے چند لمحوں کے لیے ماضی میں جاتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر افغانستان کی جنگ تک پاکستان تاریخ کی خوفناک سفارتی تنہائی کا شکار تھا‘ بھٹو صاحب حقیقتاً دنیا کے مقبول ترین لیڈروں میں شمار ہوتے تھے‘ وہ روس سے لے کر چین تک اور افریقہ سے لے کر لاطینی امریکا تک بے انتہا پاپولر تھے‘ عرب ان سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرتے تھے‘ سعودی عرب کے شاہ فیصل بھٹو صاحب سے کتنا پیار کرتے تھے یہ جاننے کے لیے ایک مثال کافی ہو گی۔

پاکستان 1971کی جنگ کے بعد ’’ڈی مورالائزڈ‘‘ تھا‘ شاہ فیصل نے پاکستان کو احساس ہزیمت سے نکالنے کے لیے بھٹو صاحب کو نہ صرف لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا آئیڈیا دیا بلکہ کانفرنس کے تمام اخراجات بھی برداشت کیے‘ پاکستان نے شاہ فیصل کی امداد سے پنجاب اسمبلی کی تمام نشستوں کی پوشش تک تبدیل کی تھیں‘ سعودی شاہ نے اسلامی ممالک میں موجود اپنے سفیروں کے ذریعے وہاں کے حکمرانوں کو کانفرنس میں شرکت کے لیے قائل بھی کیا تھا۔
شاہ فیصل نے اسلام آباد میں فیصل مسجد بنانے کے لیے پاکستان کو فنڈز بھی دیے‘ بھٹو صاحب نے سعودی شاہ کی ان مہربانیوں کا بدلہ اتارنے کے لیے لائل پور کا نام تبدیل کر کے فیصل آباد رکھ دیا‘ فیصل آباد پاکستان کا واحد شہر ہے جو کسی غیر ملکی حکمران کے نام پر ہے‘ بھٹو صاحب شام‘ اردن‘ مصر‘ ایران‘ ترکی‘ عراق‘ لیبیا اور فلسطین میں بھی بہت پاپولر تھے‘ یاسر عرفات ہوں‘ کرنل قذافی ہوں‘ شاہ ایران ہوں‘ انور سادات ہوں یا پھر حافظ الاسد ہوں اسلامی دنیا کے یہ تمام لیڈر انھیں اپنا بھائی سمجھتے تھے۔

جنرل ضیاء الحق نے جب مارشل لاء لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا تو یہ تمام لیڈرز جنرل ضیاء الحق سے ناراض ہو گئے‘ یہ بھٹو صاحب کی رہائی کے لیے فوج پر دباؤ ڈالنے لگے‘ شاہ فیصل اور یاسر عرفات نے جنرل ضیاء الحق کو پیش کش کی ’’آپ بھٹو کو ہمارے حوالے کر دیں‘ ہم گارنٹی دیتے ہیں یہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے‘‘ جنرل ضیاء الحق نے جواب میں دونوں کو بھٹوکی رہائی کا یقین دلایا لیکن یہ وعدہ ایفا نہ ہوا اور جنرل ضیاء الحق نے چار اپریل 1979 کو بھٹو صاحب کو پھانسی لگا دیا۔

بھٹو صاحب کی پھانسی نے پوری دنیا بالخصوص اسلامی ممالک کو ناراض کر دیا‘ انھوں نے پاکستان کا بائیکاٹ کر دیا‘جس کے بعد حالت یہ تھی‘ پاکستانی سفیر مصر میں پورٹ سعید گیا‘ لوگ گاڑی پر پاکستانی جھنڈا دیکھ کر اکٹھے ہوئے‘ گاڑی کا گھیراؤ کیا اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی‘ پولیس نے بڑی مشکل سے سفیر اور گاڑی کو ہجوم کی نفرت سے بچایا‘ اسلامی ممالک میں ڈاکٹروں نے پاکستانی سفارتی عملے کے علاج تک سے انکار کر دیا تھا۔

یورپ اور امریکا ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پاکستان سے ناراض تھا چنانچہ اسلامی دنیا اور مغرب کی دوطرفہ ناراضگی کی وجہ سے پاکستان شدید سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا‘ سرمایہ کاری رک گئی‘ برآمدات پاتال کو چھونے لگیں‘ پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزروز صرف 120 ملین ڈالر (بارہ کروڑ ڈالر) رہ گئے ‘ اس وقت اگر آغا حسن عابدی پاکستان کو چاول کی فصل کے عوض 400 ملین ڈالر قرض نہ دیتے تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند ہو جاتا۔

یہ وہ جرم تھا جس کی سزا میں یورپ اور امریکا نے آغا حسن عابدی کا بینک بی سی سی آئی بند کرا دیا‘ ہماری حالت اس وقت یہ تھی سعودی عرب نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے اپنے زکوٰۃ فنڈ سے ہمیں 100 ملین ڈالر زکوٰۃ دی تھی‘دنیا پاکستان کے سفارتی‘ سیاسی اور معاشی حالات سے واقف تھی چنانچہ اسرائیل نے امریکا کی مدد سے کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کا فیصلہ کر لیا۔

اسرائیل نے پاکستان کا ایٹمی پلانٹ تباہ کرنے کے لیے سری لنکا میں ہوائی اڈہ تک حاصل کر لیا ‘ سوویت یونین میں اس وقت کوسی جین صدر تھا‘ وہ بھی جنرل ضیاء الحق کے خلاف تھا‘ اس نے بھارتی وزیراعظم مرارجی ڈیسائی کو پیغام بھیجا ’’بھارت کو پاکستان کو ختم کرنے کے لیے اس سے اچھا وقت نہیں ملے گا‘ آگے بڑھو‘ حملہ کر دو اور پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کر دو‘‘ لیکن مرارجی ڈیسائی بھارتی ہونے کے باوجود اچھے انسان تھے‘ انھوں نے چت گرے پہلوان کو ٹھڈا مارنے سے انکار کر دیا‘ پاکستان کوسی جین کی ترغیب اور ڈیسائی کے انکار دونوں سے واقف تھا چنانچہ ہم جب سفارتی تنہائی سے نکل آئے تو پاکستان نے اُس احسان کے بدلے میں 1990 مرارجی ڈیسائی کو نشان پاکستان دیا۔

پاکستان اس سفارتی تنہائی سے کیسے باہر آیا؟ ہم اب آتے ہیں اس سوال کی طرف۔ جنرل ضیاء الحق جانتے تھے یہ سفارتی تنہائی ہے اوراسے صرف سفارت کار ہی ختم کر سکتے ہیں چنانچہ انھوں نے اپنی پوری توجہ وزارت خارجہ پر مبذول کر دی‘ جنرل ضیاء الحق نے دفتر خارجہ میں اپنا دفتر بنا لیا‘ وہ ہفتے میں دو دو‘ تین تین دن وزارت خارجہ میں گزارتے تھے‘ وہ سفیروں سے ملتے تھے‘ سفیروں کے پیغامات پڑھتے تھے اور انھیں براہ راست احکامات دیتے تھے۔

وہ وزارت خارجہ کے استقبالیہ پر رک کر ڈاک تک چیک کرتے تھے‘ حاضری رجسٹر اور مہمانوں کے نام پڑھتے تھے‘ وہ دنیا کے جس بھی ملک میں جاتے تھے وہ پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر ضرور جاتے تھے‘ وہ پاکستانی سفارت خانے کے اسٹاف سے بھی ملتے تھے‘ ایمبیسی کی الماریاں اور باتھ روم تک چیک کرتے تھے‘ انھوں نے ایک بار بغداد میں پاکستانی سفارت خانے کی الماری سے پرانا پبلسٹی مٹیریل نکال لیا۔

عملے نے بنڈل تک نہیں کھولے تھے‘ وہ دفتر خارجہ کے اردلیوں کی یونیفارم بھی چیک کرتے تھے‘ وہ جی ایچ کیو کے تمام اسٹاف افسروں کو سفیروں کی میٹنگ میں مبصر کی حیثیت سے بٹھاتے تھے‘ وہ نماز کے وقت پندرہ منٹ کا وقفہ کرتے تھے اور وزارت کی چھوٹی سی مسجد میں امام کے پیچھے نماز پڑھ کر دوبارہ میٹنگ شروع کرا دیتے تھے‘ وہ پاکستان میں غیر ملکی سفارت خانوں کی تقریبات میں چلے جاتے تھے‘ وہ ایک بار امریکی قونصلر کے گھریلو ڈنر میں چلے گئے‘ وہ کسی غیر ملکی سفیر کی ملاقات کی درخواست مسترد نہیں کرتے تھے۔

کوئی بھی سفیر کسی بھی وقت ان سے ملاقات کر سکتا تھا‘ جنرل صاحب نے مجرموں کو سرے عام کوڑے مروانا شروع کیے‘ یورپی میڈیا نے اعتراضات اٹھائے‘ پاکستانی سفارت خانوں نے رپورٹ بنا کر بھیجی‘ جنرل ضیاء الحق نے فوری طور پر کوڑوں کی تمام سزائیں ختم کر دیں‘ ملک میں اس کے بعد کسی کو کوڑے نہیں مارے گئے‘ وہ فارن سیکریٹری کو اکثر اپنی گاڑی میں ساتھ رکھتے تھے۔

فارن سیکریٹری ’’سر ایسا نہیں ہے‘‘ کہہ کر ان کی کسی بھی رائے کو مسترد کر سکتا تھا اور وہ یہ اختلاف رائے ہنس کر برداشت کر جاتے تھے‘ یہ وہ فارمولہ تھا جس نے چند برسوں میں پاکستان کو سفارتی تنہائی سے نکال لیا اور وہ لوگ جو پاکستان کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے وہ پاکستان کے دوست بن گئے‘ وزارت خارجہ کے گرو اکثر کہتے ہیں ’’پاکستان کے دفتر خارجہ کو جتنی عزت جنرل ضیاء الحق نے دی اتنی کسی دور میں کسی حکمران نے نہیں دی‘‘۔

جنرل ضیاء الحق میاں نواز شریف کے محسن بھی تھے‘ بزرگ بھی اور استاد بھی‘ میاں نواز شریف آج اپنے گرو کے فارمولے سے استفادہ کر سکتے ہیں لیکن میاں صاحب کو استفادے سے قبل یہ ماننا ہوگا پاکستان عالمی سطح پر بڑی تیزی سے سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے‘ ہمارے حالات آج 1978 سے مختلف نہیں ہیں‘ امریکا ہم سے دور ہو چکا ہے‘ یورپ ہمیں دہشت گردی کا ایکسپورٹر سمجھتا ہے‘ مغرب میں آج پٹاخہ بھی پھٹتا ہے تو میڈیا پاکستان‘ پاکستان کا واویلا شروع کر دیتا ہے‘ ہماری تین سرحدیں حساس ہو چکی ہیں۔

ہماری فوج افغانستان کی سرحد پر بیٹھی ہے‘ ہم ایرانی بارڈر کی نگرانی پر بھی مجبور ہیں اور بھارتی باؤنڈری بھی اکثر اوقات گرم رہتی ہے‘ بھارت نے ہمیں اپنے ہر’ٹھاہ‘‘ کا ذمے دار سمجھ لیا ہے‘ یہ پٹھان کوٹ ہو یا اڑی اپنے تمام حملے پاکستان کی گردن میں لٹکا دیتا ہے‘ نریندر مودی سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے‘ بھارت بلوچستان‘ فاٹا اور کراچی میں بارود بو رہا ہے‘ یہ ہمارے سرمایہ کار تک بھگا رہا ہے اور یہ اقتصادی راہ داری رکوانے کے لیے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔

ہمیں ماننا ہو گا پاکستان کو اس صورتحال سے صرف وزارت خارجہ نکال سکتی ہے چنانچہ وزیراعظم کو چاہیے یہ اپنے سیاسی گرو کے نقش قدم تلاش کریں‘ اپنا دفتر وزارت خارجہ میں شفٹ کر دیں‘ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کے اختلافات ختم کرائیں‘ سفارتی عملے کو عزت دیں‘ اپنے اور غیر دونوں قسم کے سفیروں سے ملیں‘ ناراض ملکوں کو راضی کریں‘ راضی ملکوں کو دوست بنائیں اور دوستوں کو بیسٹ فرینڈ بنا لیں۔

کشمیر کی تحریک کو انٹرنیشنل پلیٹ فارمز پر پیش کریں اور دنیا کے ہر اس ملک کو ساتھ ملا لیں جو نریندر مودی کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا ہے‘ آپ یقین کریں ملک دو سال میں سیاسی تنہائی سے باہر آ جائے گا لیکن اگر وزیراعظم نہ جاگے‘ یہ وقت کا مطالعہ نہ کر سکے تو انڈیا واقعی ہمیں سفارتی میدان میں وہاں لے جائے گا جہاں ہم اپنے آپ سے اپنا نام پوچھتے پھریں گے‘ وقت کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے‘ آپ کو جاگنا ہو گا ورنہ ہم ابدی نیند میں جاگریں گے لہٰذا میری درخواست ہے میاں نواز شریف کم از کم سفارتی معاملے میں جنرل ضیاء الحق بن جائیں۔