جماعة الدعوة کیخلاف اقدامات، ٹرمپ اور مودی کا حکم…تحریر : محمد شاہد محمود

اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تین روزہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا جنہیں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل کی فراہمی کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جن ملکوں کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نگرانی کرتی رہے گی ان ملکوں کی فہرست میں سری لنکا، عراق، ایتھوپیا، شام، سربیا، ٹرینڈاڈ، ٹوباگو، وناتو اور یمن کے نام شامل ہیں لیکن ان نو ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ بوسنیا ہرزوگوینا کا نام اس فہرست سے نکال لیا گیا ہے جن کی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں’ بھارت اور دیگر ممالک کی مدد سے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی جس پر پیرس اجلاس میں غور کیا گیا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ترجمان الیگزینڈر ڈانیالے نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کا نام گرے فہرست میں شامل کرنے کی خبروں اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کی ذمہ دار نہیں ہے۔ پاکستان کو تادیبی اقدامات کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے اور اس دوران پاکستان نے یہ اقدامات نہ اٹھائے تو اس کے لیے مشکلات ہوسکتی ہیں۔

آج پوری دنیا میں مسلمان ظلم ،جبر،افلاس کا شکار ہونے کے باوجود ”دہشتگرد ”کہلارہے ہیں آخر کیوں ؟وجہ یہ ہے نکہ ہم ملت کفر کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔زندہ مثال ٹرمپ اور مودی کے حکم پرحکومت پاکستان کی فوری ایکشن لیتے ہوئے جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کیخلاف بھر پور کاروائی ہے۔جماعةالدعوة اورایف آئی ایف کے اثاثے منجمند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہی ملک بھر میں تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور دیگر اثاثہ جات کو قبضہ میں لینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات کے سبب پنجاب کی طرح ملک بھر میں رفاہی و فلاحی منصوبہ جات پر عمل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے جس سے بلاشبہ ہزاروں کی تعداد میںطلبہ، غربائ، مساکین، بیوگان، یتامیٰ اور مستحق افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں جماعةالدعوة کے اثاثہ جات پر قبضہ کی خبریں بھارتی میڈیا نے بڑی بریکنگ نیوز کے طو رپر نشر کیں اوراسے اپنی حکومت کی زبردست کامیابی قرار دیا ہے۔ ہندوستانی ٹی وی چینلز مسلسل زہر اگل رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ہماری حکومت کے دبائو پر کیا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ بات حقیقت بھی ہے’ بھارت کی طویل عرصہ سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی جماعةالدعوة جیسی تنظیمیں جو کشمیریوں کے حق میں مضبوط آواز بلند کرتی ہیںان کا ناطقہ بند کیا جائے تاکہ تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کیا جائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے برسراقتدارآنے کے بعد امریکہ بھی کھل کر بھارت کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ جماعةالدعوة اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کے خلاف کاروائی کی جائے،اس کے ملک بھرمیں پھیلے تعلیمی،فلاحی اورطبی منصوبے بندکئے جائیں۔ ابھی پہلے مرحلہ میں تو صرف جماعةالدعوة اور ایف آئی ایف کیخلاف کاروائی کے مطالبات کئے گئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جماعة الدعوة بہانہ ان کا نشانہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے جسے وہ ہر صورت رول بیک کرنا چاہتے ہیں ۔ اس حوالہ سے وہ ماضی میں نہ صرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیخلاف گھٹیا پروپیگنڈا کرتے رہے بلکہ عملی طور پر اسے نقصان پہنچانے کی سازشیں بھی کرتے رہے ہیں جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیںلہٰذا جس طرح عجلت میں نیا صدارتی آرڈیننس پاس کیا گیا اور اب جماعةالدعوة اور ایف آئی ایف کے اثاثہ جات منجمدکرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اقدامات کئے جارہے ہیں اس پر پوری پاکستانی قوم میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ محب وطن حلقے سوال کرتے ہیں کہ پاکستانی حکمران بیرونی دبائو کا شکار ہو کر آخر کس حد تک جائیں گے؟ پروفیسر حافظ محمد سعید نے گزشتہ برس کشمیری قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سال 2017ء کو کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا اور پورے ملک میں جلسوں، کانفرنسوںاور ریلیوں کے پروگرام ترتیب دیے تو بھارتی دبائو پر حافظ محمد سعید اور چار دیگر رہنمائوں کو نظربند کر دیا گیا جنہیں د س ماہ بعد عدالتی فیصلہ کے نتیجہ میں رہائی ملی۔رہائی کے بعدحافظ محمد سعید نے سال 2018ء کو بھی کشمیر کے نام کرتے ہوئے کہاکہ ہم پورے ملک میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں بھرپور مہم چلائیں گے تواس سے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور امریکہ نے بھی بھارت کی ہمنوائی شروع کر دی جس پر حکومت کی جانب سے بھارت و امریکہ کی خوشنودی کیلئے جماعةالدعوة کے گرد شکنجہ کسنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کمیٹی کی قرارداد پر عمل درآمد کے بہانے پہلے نیا صدارتی آرڈیننس پاس کیا گیا اورپھر جماعةالدعوة کے اثاثے منجمند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور مراکز میں باقاعدہ ایڈمنسٹریٹر بٹھا کر سب کچھ اپنے قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ کیا حکومتی ذمہ داران کو علم نہیں کہ یہ وہ تنظیم ہے جو ملک بھر کے مختلف شہروں و علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے سکول اور کالج چلا رہی ہے جہاں بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید تعلیم دی جارہی ہے۔

ملک میں زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی اور قدرتی آفت ایف آئی ایف کے رضاکاروں نے ہمیشہ سب سے آگے بڑھ کر متاثرین کی خدمت کی ہے۔ جماعةالدعوة کے رضاکاروں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر بلوچستان کے ان علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں سرانجام دی ہیں جہاں پاکستان کا پرچم لہرانا جرم سمجھا جاتا تھا آج انہی علاقوں میں پاکستان زندہ باد ریلیاں نکالی جارہی ہیں اور انہی ریلیف سرگرمیوں سے متاثر ہو کر پہاڑوں پر چڑھنے والے نوجوان اپنا اسلحہ پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ جماعةالدعوة کا یہ وہ عظیم الشان کردار ہے جسے دیکھ کر سینئر مسلم لیگی رہنما راجہ ظفر الحق نے اسلام آباد میں ڈاکٹروں کے ایک سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلاح انسانیت فائونڈیشن اور جماعةالدعوة کی ریلیف سرگرمیوں سے بلوچستان اور سندھ میں علیحدگی کی تحریکیں دم توڑ رہی ہیں تاہم افسوس کہ آج اسی جماعت کے تمام رفاہی و فلاحی منصوبہ جات بند اور انہیں دکھی انسانیت کی خدمت سے روکا جارہا ہے۔ حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ اب تک بھارتی وامریکی خوشنودی کیلئے آپ نے جس قدر اقدامات کئے کیا وہ کبھی آپ سے راضی ہوئے ہیں؟۔ ان کا ڈومور کا مطالبہ کبھی ختم ہوا ہے؟۔آپ نے کتنی مرتبہ مردمجاہد حافظ محمد سعید کو نظربند کیا اور انہیں محض کشمیریوں کے حق بیرونی سازشوں کیخلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں لیکن اس کے باوجود ہر آنے والے دن دشمن قوتوں کے مطالبات بڑھتے ہی چلے جار ہے ہیں۔ کیا حکومتی کارپرداز اس کا جواب دے سکتے ہیںکہ اقوام متحدہ نے کشمیر کے حوالہ سے جو قراردادیں پاس کیںان پر عملدرآمد کیلئے سفارتی محاذ پر انہوںنے کیا کردار ادا کیا ہے؟کیا یہی پابندیاں سفارتی محاذ کو سرگرم کر کے ظالم، دہشت گرد بھارت پر نہیں لگوائی جاسکتی تھیں؟۔ جس بھارت کے کہنے پر امریکہ پاکستان پر دبائو بڑھا رہا ہے کیا یہ حقیقت نہیں کہ اسی بھارت کے موجودہ وزیر اعظم کو احمد آباد گجرات فسادات میں قتل عام کا ذمہ دار قرار دیکر امریکہ نے طویل عرصہ تک اپنے ملک میںداخل ہونے پر پابندی لگائے رکھی؟۔دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی بنا رکھا ہے اور صرف کشمیر ہی نہیں پاکستان میں بھی دھماکوں اور دہشت گردی کی وارداتیں پروان چڑھانے میں مصروف ہے۔ جس ملک کا وزیر اعظم بنگلہ دیش جا کر پاکستان کو دولخت کرنے کا اعتراف کرے اور اس پر میڈل حاصل کرے اس سے خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔؟

پاکستانی اداروں کے پاس تو بھارت کی دہشت گردی کے ایسے ٹھوس اور واضح ثبوت موجود ہیں کہ جنہیں جھٹلانا ممکن نہیں ہے۔ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے کلبھوشن جیسے حاضر سروس ہندوستانی فوجی افسراس امر کا زندہ ثبوت ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر بھارت کی دہشت گردی بے نقاب کرتی اور اسے دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی کوششیں کی جاتیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ محض ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر مودی سرکار سے دوستیاں بڑھانے پروان چڑھانے والے حکومتی ذمہ داران نے اپنا فریضہ ادا نہیں کیا۔ ایسے حالات میں جب دشمن قوتیں پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے ایک ہو چکی ہیں اورہماراملک حالت جنگ میں ہے ‘ اپنے ہی ملک کی محب وطن تنظیموں کیخلاف کاروائیاں کر نا ملک کے دفاع وحصارکوکمزورکرنااوربیرونی قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے تین ماہ کا کہہ کر حکومت پاکستان پر تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران بیرونی دبائو سے نکل کر آزادانہ فیصلے کریں۔ اسی سے ملک مشکل صورتحال سے نکلے گا۔ ان شاء اللہ۔