14 سالہ لڑکا جو انڈے دینے لگا، ڈاکٹروں کی موجودگی میں بھی انڈا دے کر دکھادیا، یہ کیسے ممکن ہے؟ حقیقت جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک)آج تک آپ نے مرغی کو ہی انڈے دیتے دیکھا سنا ہو گا لیکن یہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی کہ انڈونیشیاءمیں ایک 14سالہ لڑکے نے انڈے دینے شروع کر دیئے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس لڑکے کا نام اکمل ہے جو 2016ءسے انڈے دے رہا ہے۔ جب اسے ڈاکٹروں کے پاس لیجایا گیا تو انہوں نے اس کا دعویٰ ماننے سے انکار کر دیا جس پر لڑکے نے ان کے سامنے انڈا دے کر انہیں دکھایا اور ڈاکٹر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

اکمل کے والدین نے ڈاکٹروں کو بتایا ہے کہ 2016ءسے اب تک ان کا بیٹا 18سے زائد انڈے دے چکا ہے اور جس روز وہ اسے ڈاکٹروں کے پاس لائے اس روز اس نے دو انڈے دیئے تھے۔لڑکے نے بتایا کہ اس نے جو پہلا انڈا دیا تھا اس کے اندر تمام مواد زرد تھا، اس میں سفیدی نہیں تھی۔ ڈاکٹر اس عجوبے پر سراپا حیرت بنے بیٹھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں انڈے کا بننا ناممکن ہے۔ ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ اس لڑکے میں یہ کیسے ہو رہا ہے۔ہسپتال کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ہمیں شبہ ہے کہ یہ لوگ مذاق کر رہے ہیں۔ اکمل کو ہسپتال لانے سے پہلے جان بوجھ کر اس کے جسم میں انڈا داخل کر دیا گیا تھا جو اس نے ڈاکٹروں کے سامنے نکال کر اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی۔“ دوسری طرف اکمل کے والد نے ترجمان کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کوئی مذاق نہیں کر رہے۔ ہمارا بیٹا واقعی انڈے دے رہا ہے۔