پاک ترک تجارتی تنازع: وزارتِ تجارت کی وفاقی کابینہ سے مداخلت کی اپیل

وزارتِ تجارت نے وفاقی کابینہ سے پاکستانی مصنوعات پر ترکی میں ڈیوٹی کی کمی یا پھر پاکستان کی یورپی نظام کے تحت ترجیحات کے عمومی نظام (جی ایس پی) کی حیثیت میں توسیع کے معاملے میں ترک حکام پر زور دینے کا مطالبہ کردیا۔
وزارتِ تجارت نے وفاقی کابینہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا کہ ایسے ترقی پذیر ممالک جو ترجیحات کے عمومی نظام (جی ایس پی) کی حیثیت سے مستفد ہو رہے ہیں، ان میں سے ترکی نے پاکستان اور ارمانیہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو توسیع دینے سے بھی انکار کردیا۔
وزارتِ تجارت نے درخواست کی کہ ترک حکومت سے پاکستانی مصنوعات پر دی جانے والی بھاری اضافی ڈیوٹی کو ختم کرانے کا بھی مطالبہ کیا جائے۔
پاکستان نے فروری 2015 سے اب تک اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان ہونے ایف ٹی اے مذاکرات میں متعدد مرتبہ اضافی ڈیوٹی کے مسئلے کو اجاگر کیا تاہم اس معاملے میں اب تک کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔
پاکستان کی جو مصنوعات زیرِبحث ہیں ان میں ٹیکسٹائل، کارپیٹ، ہاتھوں سے بنے فائبر، پلاسٹک اور جوتے وغیرہ شامل ہیں۔
ان مصنوعات پر 20 سے 50 فیصد تک کی ڈیوٹی لی جاتی ہے تاہم مجموعی طور پر ان اشیا پر 28 سے 67 فیصد کی ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے جبکہ ان کے ساتھ دیگر محصولات بھی لاگو ہوتے ہیں۔
ترک حکام کی جانب سے اتنی بھاری ڈیوٹی کے نیتجے میں 2011 سے اب تک پاکستانی مصنوعات کی برآمدات 69 فیصد کم ہوئی ہیں جو 7 برس قبل 90 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں جو گزشتہ مالی سال تک کم ہوکر 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک رہ گئیں ہیں۔
وزارتِ تجارت کے حکام نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ترک حکومت اس چیز کا پابند ہے کہ پاکستان کی جی ایس پی حیثیت بحال کرے کیونکہ وہ خود بھی یورپی یونین کی کسٹم یونین کا سابق رکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وہ مطالبہ ہے جو 2017 میں ترک حکام سے کیا جاچکا ہے تاہم یہ ترک حکومت کی جانب سے اس معاملے میں مذاکرات کے بجائے ایف ٹی اے کی تجویز کے بعد کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس جون میں ایف ٹی اے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کی جی ایس پی حیثیت میں توسیع کی جائے یا پھر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ٹیکس کے حوالے سے رعایت دی جائے، جو ایف ٹی اے کے تحت کسی بھی ملک کو دیے جانے والے سب سے کم نرخ ہوں۔
مذکورہ میٹنگ کے حوالے سے ذائع نے بتایا تھا کہ ترکی نے 2011 میں نافذ ہونے والی اضافی ڈیوٹی پر 25 فیصد کی کمی کی تجویز پیش کی تھی جو پانچ سال کے لیے محیط ہوگی جبکہ کچھ مصنوعات کے لیے 11 سال تک بھی محیط ہو سکتی ہے۔
پاکستان نے ترکی کی اس تجویز کو مسترد کردیا تھا جبکہ اعلیٰ حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے ترک حکام پر زیادہ سے زیادہ نرمی دکھانے کے لیے روز دیں۔
تاہم اگر پاکستان کی جانب سے ترکی پر نرمی دکھانے کی کوشش ناکام ہوجارتی ہے تو اس پھر پاکستان درآمد ہونے والی ترک مصنوعات پر بھی اضافی ٹیرف لاگو ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشہ برس دسمبر میں ایف ٹی اے مذاکرات سے علیحدہ پاکستان اور ترکی کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر اٹھایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس مذکورہ مذاکرات میں ترک حکام نے واضح کیا تھا کہ ترکی ان ممالک کو جی ایس پی حیثیت نہیں دے گا جو پہلے ہی اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔
گزشتہ برس ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہونے والے ڈبلیو ٹی او کے اجلاس کے موقع پر بھی پاکستانی حکام کی جانب سے یہ ترک حکام کو منانے کی کوشش کی گئی، تاہم اس میں بھی کوئی کامیابی نہیں مل سکی، کیونکہ پاکستانی اور ترک وفود کی ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔
پاکستان اور ترکی کے درمیان ایف ٹی اے مذاکرات میں دو مرتبہ توسیع کردی گئی جو پہلے 2016 میں ہونے والے تھے انہیں بعد میں 2017 میں شیڈول کیا گیا۔
ابھی بھی دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر بات چیت کے لیے کوئی مذاکرات متوقع نہیں ہیں، تاہم وزارتِ تجارت کی جانب سے وفاقی کابینہ کو درخواست کی گئی ہے کہ ترک حکام کے سامنے اضافی ڈیوٹی بڑھانے یا پھر جی ایس پی حیثیت میں توسیع کی تجویز پر ترک حکام کے انکار کو اٹھانے کے لیے اجازت دی جائے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجاری تنازع کھڑا ہوا ہے۔