ولیمسن کی ناقابل سنچری بھی نیوزی لینڈ کو فتح نہ دلا سکی

کپتان کین ولیمسن کی ناقابل شکست سنچری کے باوجود انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو تیسرے ون ڈے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 رنز سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل کر لی۔

ہفتہ کو ویلنگٹن میں کھیلے گئے تیسرے ایک روزہ میچ میں کیوی قائد ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلرز کو آزمانے کا فیصلہ کیا تو انگلش ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 234 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، انگلینڈ کا کوئی بھی بلے باز خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا۔

کپتان ایوان مورگن 48 رنز بنا کر سب سے کامیاب بلے باز رہے جبکہ جیسن رائے 15، جونی بیئراسٹو 19، جوروٹ 20، بین اسٹوکس 39، جوز بٹلر 29، معین علی 23، کرس ووکس 16، عادل راشد 11 اور مارک ووڈ ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے اش سودھی نے 3، ٹرینٹ بولٹ نے 2 جبکہ ٹم ساؤدھی اور کولن ڈی گرینڈ ہوم نے ایک، ایک وکٹ لی۔

ہدف کے تعاقب میں مارٹن گپٹل صرف تین رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے لیکن کولن منرو اور کین ولیمسن نے دوسری وکٹ کیلئے 68 رنز کی شراکت قائم کر کے اسکور کو 80 تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ابتدائی نقصان کا ازالہ کردیا۔

لیکن منرو کے آؤٹ ہونے کے بعد نیوزی لینڈ کی مڈل آرڈر بیٹنگ ریت کی دیورا ثابت ہوئی اور مزید 23 رنز کے اضافے سے چار وکٹیں گنوا بیٹھی اور 103 رنز پر اس کے چھ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

اس موقع پر نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے بالکل باہر نظر آتی تھی لیکن کین ولیمسن فتح اور انگلینڈ کے درمیان حائل ہو گئے۔

کیوی قائد نے ایک اور شاندار سنچری اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ مچل سینٹنر کے ساتھ ساتویں وکٹ کیلئے 96 رنز جوڑ کر ایک مرتبہ پھر جیت کی امید پیدا کردی۔

سینٹنر 41 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد رن آؤٹ ہوئے جبکہ کرس ووکس نے ساؤدھی کی اننگز کا ختمہ بھی کردیا لیکن ولیمسن ڈٹے رہے۔

ٹام کیورن اور کرس ووکس نے آخری دو اوورز میں 22 رنز کا دفاع کر کے کیویز کی جیت کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔

میچ کے آخری اوور میں نیوزی لینڈ کو فتح کیلئے 15 رنز درکار تھے لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم صرف دس رنز بنانے میں ہی کامیاب ہو سکی اور انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے میں چار رنز سے فتح اپنے نام کر کے سیریز میں بھی 2-1 کی برتری حاصل کر لی۔

کین ولیمسن نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے چھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 112 رنز کی اننگز کھیلی لیکن ان کی یہ اننگز بھی ٹیم کے کام نہ آ سکی۔

مین آف دی میچ معین علی نے 3، راشد اور ووکس نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔