سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سیاستدانوں کا ردعمل

سینیٹ کی 52 خالی ہونے والی نشستوں پر ووٹنگ کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سینیٹ الیکشن کے اب تک کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 15، پاکستان پیپلز پارٹی کے 12، تحریک انصاف کے 6، جے یو آئی (ف) اور نیشنل پارٹی کے دو دو جبکہ مسلم لیگ فنکشنل اور ایم کیو ایم کا ایک ایک امیدوار کامیاب ہو چکا ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے سینیٹ کی 12 میں سے 11 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب قرار پائے جبکہ ایک نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری سرور نے کامیابی سمیٹی۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر کی کامیاب امیدواروں کو مبارکباد
مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے مسلم لیگ (ن) کےحمایت یافتہ امیدواروں کومبارکباد دی۔
شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نو منتخب سینیٹرز آئین کی بالادستی کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے اور قانون سازی میں اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نو منتخب سینیٹرز اراکین اسمبلی کی توقعات پر پورا اتریں گے اور اپنے منصب کی لاج رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ نتائج سے واضح ہوگیا مسلم لیگ (ن) آج بھی سب سے بڑی جماعت ہے اور یہ عوام کے دلوں میں بستی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جھوٹ کا سہارا لینے والے عوام کے دلوں سے مسلم لیگ(ن)کی محبت نہیں نکال سکتے جبکہ جھوٹ اور انتشار کی سیاست کے علمبرداروں کیلئے سینیٹ انتخابات نوشتہ دیوار ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کامیابی حاصل کرے گی۔
مریم نواز کا بیان
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی پر کہا ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کی مدد ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی سازش نہیں روک سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے سینیٹ الیکشن میں نوازشریف اور مسلم لیگ (ن )کامیاب ہوئی ہے اور میں ‏مسلم لیگ کے تمام ارکان کو سلام پیش کرتی ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ارکان نے سیاست کی روایت بدل دی جب کہ پارٹی کے ارکان نے پارٹی اور نواز شریف کا ڈٹ کرساتھ دیا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ‏سینٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا نام، جماعت اور نشان چھین لیےگئے لیکن نہ ڈرے نہ پیچھے ہٹے اور سینیٹ انتخاب ہر اس امیدوار نے جیتا جو نوازشریف کا انتخاب تھا۔
پی ٹی آئی رہنما چوہدری سرور کا (ن) لیگ کو چیلنج
پنجاب اسمبلی سے جنرل نشست پر سینیٹر منتخب ہونے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ مجھے ووٹ دینے والے پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور آزادامیدواروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی پوری کوشش کروں گا۔
چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ اب ہم پنجاب میں اور مرکز میں بھی وفاقی حکومت کا بھرپور مقابلہ کریں گے اور آئندہ پنجاب کے ساتھ مرکز میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہو گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ہمارا وزیراعظم ہو گا اور ہم پاکستان کو نیا پاکستان بنائیں گے۔
آصف کرمانی کا ردعمل
چوہدری سرور کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار نے پنجاب سے کیسے کامیابی حاصل کر لی اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کا کون کون رکن غدار ہوا،پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے نام معلوم کیے جائیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم آزادنہیں، کل بھی مسلم لیگ میں تھے اور آنے والےکل بھی مسلم لیگ میں رہیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے پاس پنجاب اسمبلی میں 33 اراکین ہیں تو انہیں 44 ووٹ کیسے مل گئے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا بیان
صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ آج نواز شریف کے نامزد کردہ امیدواروں کی جیت ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہےکہ نا ہی عوامی رائے کو دبایا جاسکتا ہے اور نا ہی جمہوریت سے مسلم لیگ (ن )اورنوازشریف کاکردارمائنس کیاجاسکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہارس ٹریڈنگ یا بارگیننگ نہیں کی،ہمارےامیدواروں سےمسلم لیگ (ن )کا انتخابی نشان لےلیا گیا تھا لیکن تمام امیدوار آج بھی میرے ساتھ یہاں کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کی حرمت اورآئین کی بالادستی کی جدوجہدکامیاب ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان کا عمران خان کے حوالے سے ردعمل
جمعیت علمائے اسلام (ن) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میرے علاقے میں ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوتی، ہارس ٹریڈنگ جن علاقوں میں ہوتی ہے وہاں سے معلوم کریں ۔
عمران خان کے امیدوار کی جانب سے فاٹا میں 32کروڑ روپے کے بدلے ایک ووٹ کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہے تو یہ انتخابات کے لیے غلط قسم کا نشان اور دھبہ ہے ۔
عمران خان کے سینیٹ الیکشن کے لیے ووٹ نہ ڈالنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان پہلے پارلیمنٹ میں کب آئے ہیں۔
پیر صابر شاہ کا نواز شریف کو خراج تحسین
خیبر پختونخوا اسمبلی سے سینیٹر منتخب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما صابر شاہ کا کہنا تھا کہ آج لیگی کارکن مبارکباد کےمستحق ہیں کہ ان کاغریب کارکن آج سینیٹرمنتخب ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کوخراج تحسین پیش کرتاہوں کہ انہوں نےغریب امیدوارکوٹکٹ دیا۔
صابر شاہ کا کہنا تھا کہ جن کی مطلوبہ نمائندگی نہیں تھی انہوں نےبھی امیدوارکھڑےکئےتھے لیکن آج ووٹ کی عزت بحال ہوئی ہے ۔
مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدوار پیر صابر شاہ نے کہا کہ مسلم لیگیوں کوخریدنے کی کوشش کی گئی مگر وہ نہیں بکے، آج مسلم لیگ (ن )کا بچہ بچہ نوازشریف کی آواز پر لبیک کہہ رہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوامیں مسلم لیگ (ن )کو2 نشستوں پر کامیابی نصیب ہوئی اور مسلم لیگ (ن )کو اپنی نمائندگی کے حساب سے کامیابی ملی جبکہ دیگرصوبوں میں جمعہ بازارلگاکرلوگوں کےضمیرخریدنےکی کوشش کی گئی۔
جماعت اسلامی رہنما کاہارس ٹریڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ
خیبر پختونخوا سے سینیٹ کے لیے کامیاب ہونے والے جماعت اسلامی کے امیدوار مشتاق خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہوئی جس کا الیکشن کمیشن، حکومت اور سیاسی جماعتوں کو نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں پیسے کے ذریعے لوگ قابض ہوں گے تو جمہوریت نہیں چل سکے گی اور پارلیمنٹ بھی نہیں چلے گی، اسی لیے پیسے کی ریل پیل اور کرمنلز کا تسلط پارلیمنٹ اور سیاست سے ختم کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے ارکان اسمبلی نے اپنے امیدواروں اور اتحادی جماعتوں کے امیدواروں کو بھی معاہدے کے تحت ووٹ دیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مشتاق خان نے کہا کہ جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سینیٹ انتخابات کے لیے جمہوری عمل تھا جو انتخابات کے بعد ختم ہوگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تینوں جماعتوں نے معاہدے کی پاسداری کی ہے بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ڈٹ کر میرا ساتھ دیا۔
تحریک انصاف سے سینیٹ انتخابات میں اتحاد نہ کرنے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں اتحاد نہ کرنے سے متعلق پی ٹی آئی سے پوچھا جائے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں کے بیانات
ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد کے رہنما کنور نوید جمیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پیپلزپارٹی نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے اورہمارے 6 لوگوں کو خرید لیا جبکہ پاک سرزمین پارٹی میں جانے سے کچھ لوگوں نے وفاداریاں تبدیل کیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے وعدے بھی وفا نہیں کئے ۔
ایم کیو ایم کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ سینٹ الیکشن میں سچائی سامنے آگئی کیوں ہم تقسیم ہوئے جس سے دنیا متحد ہوگئی اور افسوس ہے ثالثی کا کردار بھی نتائج نہ دے سکا۔
ایم کیو ایم کی رکن سندھ اسمبلی شازیہ فاروق نے اپنے وڈیو بیان میں سینیٹ انتخابات میں ایم کیوایم کو ووٹ نہ دینے کا اعتراف کیا ۔
انہوں نے کہا کہ میں کسی گروپ کا حصہ نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی سودا کیا ہے بلکہ غصے میں جاکر اپنا ووٹ کاسٹ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کا مسئلہ اٹھا کر ہمیں25 دن تک اذیت میں رکھا اور انہوں نے ٹیسوری کو پوری تحریک پر مقدم سمجھا۔
پیپلز پارٹی رہنما نے ہارس ٹریڈنگ کے تاثر کو غلط قرار دیدیا
سندھ اسمبلی سے مخصوص نشست پر پیپلزپارٹی کی کامیاب ہونے والی امیدوار قراۃ العین مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اعتدال پسند لوگوں کی جماعت ہے اور سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا تاثر غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں نے آج ضمیر کی آواز پر ووٹ دیا اور اسی لیے ہم نے ایم کیو ایم کی خواتین رکن کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا ہے۔