عمران خان کا سینیٹ الیکشن میں دھاندلی کا الزام

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں بولیاں لگانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں پی ٹی آئی ارکان کو بھی نا خرید لیا جائے۔
راولپنڈی میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو تانگہ پارٹی کہنے والے آج خود اس پارٹی میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ وہ ایک مافیا سے نبرد آزما ہیں اور اس مافیا نے مجھ پر دہشت گردی سمیت 10 مقدمات بنا رکھے ہیں ، یہ سب جمہوریت میں نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان شریفوں اور زر داریوں کو امیر کرنے کے لئے نہیں بنا تھا ۔
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف آج ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے اور ہم اپنی جماعت بننے کے 22 ویں سال میں حکومت میں آجائیں گے جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن )سندھ اور سینٹرل پنجاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
عمران خان نےکہا کہ کرپشن کےخلاف صرف تحریک انصاف نے آواز بلند کی اور مجھے کیوں نکالا والے کے خلاف بھی تحریک انصاف نے ہی آواز اٹھائی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 300 ارب روپے کی کرپشن کا جواب دینا ہے، نواز شریف اپنے وزیروں کو کرپشن سے نہیں روک سکتے ،اگر نواز شریف برطانیہ کے وزیر اعظم بھی بن جائیں تو وہ ملک بھی کنگال ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف 16 لاکھ ماہانہ دبئی سے تنخواہ لے رہے ہیں اور شہباز شریف نے پنجاب کا 9000ارب کہاں لگایا؟ شہباز نے کتنے اسپتال بنائے سب سے زیادہ بچے پاکستان میں مر رہے ہیں۔