غیر معیاری منرل واٹر کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

سپریم کورٹ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) کو حکم دیا ہے کہ اگر بوتلوں میں بند پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہیں تو ان کمپنیوں پر تالے ڈال دیئے جائیں۔
پی ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل نور الامین مینگل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ صوبے بھر میں 1 ہزار 150 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے 1 ہزار 53 فعال جبکہ 97 پہلے ہی سے بند ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 578 کمپنیوں میں معیار کا خیال رکھا جا رہا ہے اور 37 کمپنیوں کو خلاف ضابطہ کام کرنے پر سیل کردیا جبکہ 135 کمپنیوں کے نمونوں کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں۔
جس پر ثاقب نثار نے ہدایت دی کہ ان تمام کمپنیوں کو سیل کردیا جائے جو متعلقہ اتھارٹی کے متعین کردہ معیار کو اپنانے میں ناکام ہیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی معاون مصطفیٰ رمدے کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان کو پابند کیا کہ وہ مصطفیٰ رمدے کی حاضری کو یقینی بنائیں۔
بعدازاں، عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ مصطفیٰ رمدے بیرون ملک دورے پر ہیں۔
عدالتی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی گئی
پولٹری
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے قائم مقام چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ برائلر مرغیوں کے گوشت میں مضرصحت اجزاء نہیں پائے گئے جبکہ مرغیوں کو ذبح کرنے اور پیکنگ کا عمل مضرصحت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ برائلر مرغیوں کے نمونے لاہور کے مختلف حصوں سے جمع کیے گئے تھے۔
ایف پی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت عظمیٰ کو یقین دلایا کہ مرغیوں کو ذبح کرنے اور پیکنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
فارمولا دودھ
فارمولا دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں درخواست دی گئی کہ دودھ کے ڈبے پر ’یہ قدرتی دودھ نہیں ہے‘ تحریر کرنے سے استثنیٰ دیا جائے۔
میاں ثاقب نثار نے نیسلے دودھ کی نمائندگی کرنے والے وکیل کی درخواست مسترد کردی۔
نیسلے ملک کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی فارمولا دودھ کی تیاری میں تمام عالمی اور مقامی معیارات کا خیال رکھتی ہے جو 6 ماہ کے بچے کے لیے قابل استعمال ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نوزائیدہ بچہ بھنس کا دودھ ضم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے فارمولا دودھ ان کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی جانب سے پی ایف اے کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ قدرتی دودھ بڑی نعمت ہے اگر فارمولا دودھ بنانے والی کمپنیاں ڈبے پر ’یہ دودھ قدرتی نہیں ہے‘ تحریر کرنے سے قاصر ہیں تو ان کی پیدوار پر پابندی عائد رہے گی۔
عدالت عظمیٰ کے بینچ نے میجی فارمولا دودھ بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی۔

کیٹاگری میں : صحت