فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے: نواز شریف

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میرا بیانیہ عوام کے دل میں اترچکااور اب فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
گجرات کے کوٹلہ عرب علی خان اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ منتخب وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک ہوا کہ اسے بیٹے سے خیالی تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا گیا جس کے بعد پارٹی صدارت سے بھی نکال دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے بہت پہلے آئے اور آج بھی آرہے ہیں لیکن عوام کے دلوں سے نواز شریف کو کس طرح نکالو گے، اگر سب کچھ چھین رہے ہو تو میرا نام بھی چھین کر دکھاؤ۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ ٹکٹوں پر نواز شریف کے دستخط ہونے کی وجہ سے ہمارے امیدواروں سے پارٹی کا نام چھین لیا گیا، نواز شریف کی مہر اور دستخط ایٹمی پروگرام کے اعلان پر بھی ہے، کیا ایٹمی پروگرام کو بھی ختم کردیا جائے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ موٹروے کو ختم کردو، ہوائی اڈے بھی ختم کردو ان پر بھی نواز شریف کا نام ہے،کون کون سے جج نواز شریف کے دستخطوں سے اعلیٰ عدالتوں میں بیٹھے ہوئے ہیں کیا انہیں بھی ختم کردیا جائے گا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلے غصے اور انتقام میں آرہے ہیں، اور یہ انتقام نواز شریف سے لیا جارہا ہے، عوام نے 2018 کے انتخابات میں صرف ووٹ نہیں ڈالنا بلکہ انقلاب لانا ہے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں تاریخ رقم کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتی ہوں، ارکان اسمبلی نے کوئی دباؤ نہیں لیا اور نا نواز شریف کا ساتھ چھوڑا،
انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لئے پارٹی کا نام چھن جانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، ایک عدالت سے نواز شریف کے خلاف فیصلے آتے ہیں اور ایک عوامی عدالت ہے جو نواز شریف کے حق میں فیصلے دے رہی ہے۔
جلسہ گاہ کے اندر اور اطراف میں کئی خیرمقدمی بینرز آویزاں کئے گئے ہیں جن پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے حق میں نعرے درج ہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگر پارٹی قائدین بھی جلسے سے خطاب کریں گے جب کہ جلسہ گاہ میں 30 ہزار سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔