ایم کیو ایم ایک ٹیومر کی طرح ہے جسے کاٹے بغیر علاج نہیں ہوگا: مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کو برین ٹیومر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اس ٹیومر کو کاٹا نہیں جائے گا تو اس کا علاج نہیں ہوگا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کل سینیٹ الیکشن میں ایم کیو ایم نے مہاجر قوم کا ووٹ بیچا ہے اور ایم کیو ایم کے 14 لوگ بکے ہیں کیوں کہ ان لوگوں نے اپنے لیڈروں کو بکتے دیکھا ہے جب رحمان ملک کی ایک کال اور ایک بریف کیس سے معاملات طے ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کو بڑی مشکل سے ایک نشست ملی اور ایم کیو ایم کی خواتین نے جھوٹ بولا کہ کامران ٹیسوری کی وجہ سے غصے میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ایک برین ٹیومر کی طرح ہے اور جب تک اس ٹیومر کو کاٹا نہیں جائے گا تو علاج نہیں ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی نے جو راستہ اپنایا ہے وہ غط ہے اور دونوں کو دعوت دیتا ہوں میرے بازو کھلے ہیں، اگر ہم ایک نہ ہوئے تو پھر کراچی میں خون خرابہ ہوگا۔