بنگلہ دیش: ایک اور سیکولر ادیب پر قاتلانہ حملہ

بنگلہ دیش کے معارف ادیب اور فکشن رائٹر محمد ظفر اقبال تیز دھار آلے کے ساتھ کیے جانے والے قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ ایک یونیورسٹی میں محمد ظفر اقبال پر عقب سے حملہ کیا گیا جس سے ان کی گردن پر گہرا زخم آیا تاہم انہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے ترجمان عبدالوہاب نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جس وقت محمد ظفر اقبال سیمینار میں تھے تب مشتبہ شخص نے چھری سے حملہ کیا بعدازاں ان کے گن مین نے حملہ آوار کو پکڑ لیا۔
واضح رہے کہ محمد ظفر اقبال شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر بھی ہیں اور آزادی اظہار اور سیکولرزم کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔
عبدالوہاب نے بتایا کہ حملہ آواروں کی تعداد اور ان کے تعلق کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہیں تاہم محمد ظفر اقبال کو حملے کے فوراً بعد ڈھاکا ملٹری ہسپتال منتقل کردیا۔
سیکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیشی حکومت نے ملک کے معروف سیکولر رضا کاروں اور مصنفین کو ممکنہ حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی فراہم کردی ہے۔
سیکولر گروپ کے ایک رکن عمران سرکری نے کہا کہ محمد ظفر اقبال بنگلہ دیش میں پروگریسو تحریک کے روح رواں ہیں اور ان پر حملہ دراصل پروگریسو بنگلہ دیش پر حملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’محمد ظفر اقبال انتہا پسند گروہوں کی نشانے پر ہیں اور حکومت کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی‘۔
وزارت عظمیٰ کے سیکریٹری اطلاعات احسن الکریم نے بتایا کہ ’وزیراعظم شیخ حسینہ نے حملے کی سخت مذمت کی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورس کو حکم جاری کردیا ہے‘۔