خواجہ آصف اور نواز شریف کے بعد عمران خان کی باری آگئی ۔۔۔ فیصل آ باد سے افسوس ناک خبر

فیصل آباد (ویب ڈیسک) جمہوری حکومت کسی بھی ملک کی عوام کی نمائندہ حکومت ہوتی ہے جس کا مقصد عوام کے حقوق کو اولین ترجیح دینا ہو تا ہے مگر حکومت اپنے راستے سے منحرف ہو جائے تو تنقید کرنا آواز بلند کرنا عوام کا جائز حق ہو تا ہے مگر سیاسی رہنما پر جوتا اچھال دینا ایک ناذیبا حرکت ہے اور آج

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بعد اب فیصل آباد میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر جوتا پھینکنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان پر ملت چوک میں رمضان نامی ایک شخص نے گاڑی کا دروازہ کھول کر جوتا مارنے کی کوشش کی لیکن اُسے تحریک انصاف کے کارکنوں نے پکڑ لیا اور درگت بنا ڈالی۔ پولیس شہری کو گرفتار کر کے تھانہ سول لائنز لے گئی ہے۔ تھانہ سول لائنز پولیس نے اب ملزم رمضان کو نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔یاد رہے اس سے پہلے آج صبح سابق وزیر اعظم نواز شریف پر بھی جامعہ نیعمیہ میں ایک شخص کی جانب سے جوتا پھینکا گیا ہے۔دوسری جانب آج میاں نواز شریف کو بھی دوران تقریب جوتے کا نشانہ بننا پڑا ،اور ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا اچھالے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے شدید سیاسی مخالف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جوتا پھینکے جانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ عمل اخلاقیات کے خلاف ہے۔عمران خان نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کسی پر جوتے یا سیاہی پھینکی جائے تاہم خوشی ہے کہ اس میں تحریک انصاف

کا کارکن ملوث نہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ نواز شریف پر جوتا پھینک کر گری ہوئی حرکت کی گئی، ایسی روایت سے سیاسی قیادت کے احترام کے لئے خطرات پیدا ہوں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ عدم برداشت کے کلچر کو فروغ نہیں دینا چاہیے، پیپلزپارٹی اس طرح کی گری ہوئی حرکتوں کے ہمیشہ مخالف رہی ہے، اس طرح تذلیل سے سیاسی قیادت کو عوام سے براہ راست رابطے سے نہیں روکنا چاہیے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ جوتا پھینکوایا گیا یا کسی نے خود پھینکا قابل مذمت ہے، سیاسی جماعتوں کو صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، ایسی صورتحال میں کوئی جماعت یا گروہ سیاسی مجالس نہیں کر پائیں گی۔وزیراعظم کے مشیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ملک بھر کے رہنماؤں کے لئے لمحہ فکریہ ہے، نواز شریف کی مقبولیت سے خائف لوگ اوچھی حرکتوں پر اتر آئے ہیں، ایسی روایات قائم نہ کی جائیں کہ سیاست دان گھروں سے باہر نہ نکل سکیں۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سکندر حیات خان کا کہنا ہے کہ جوتا پھینکنا افسوسناک ہے، ایسے فعل سے پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ کسی کے اوپر بھی جوتا پھینکنا غلط اور غیر اخلاقی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ پیش آئے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ رجحان ملک اور قوم کے لئے تباہ کن ہے، اس واقعے کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مذمت خوش آئند ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات ملکی سیاست کو انتشار کی جانب لے جائیں گے، سیاست میں احترام کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی گروپ کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ اس طرح کا عمل غیر اخلاقی اور افسوسناک ہے، سیاست عدم تشدد کا درس دیتی ہے، اس طرح کے نازیبا عمل کے تدارک کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے۔ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد گروپ کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ سیاسی قائدین کی تضحیک غیر جمہوری اور غیر اخلاقی عمل ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ ان کی جماعت نوازشریف پر جوتا پھینکنے کی مذمت کرتی ہے، کسی پر جوتا پھینکنا جمہوری روایات کے منافی عمل ہے۔قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ نواز شريف پرجوتا پھينکنے اور خواجہ آصف پر سياہی پھينکنے کی مذمت کرتے ہيں، اگر ملک کو اس راستے پر چلايا گيا تو کوئی محفوظ نہيں رہے گا۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر اس وقت جوتا اچھالا گیا جب وہ جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تھے۔