سینٹ چیرمین کا انتخاب ہارنے کے بعد ن لیگ کی بڑی وکٹ بھی گر گئی: عمران خان نے ن لیگ کا الیکشن جیتنے کا ماہر رہنما اپنا کھلاڑی بنا لیا

سیالکوٹ (ویب ڈیسک) تین حلقوں این اے 111، این اے 114، پی پی 125 کے ٹکٹ ملیں گے ہمارے ساتھ کسی نے رابطہ نہیں کیا ،کردار کشی کی جارہی ہے ،ارمغان سبحانی۔

سیالکوٹ کے سیاسی حلقوں میں کئی روز سے افواہیں پھیل رہی ہیں کہ وریو خاندان ایک مرتبہ پھر سیاسی وفاداریاں تبدیل کر کے مسلم لیگ (ن) سے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے جا رہا ہے جہاں پر وریو خاندان کو قومی و صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں این اے 111، این اے 114، پی پی 125 کے ٹکٹ ملیں گے ۔

این اے 111 سے خوش اختر سبحانی، این اے 114 سے ارمغان سبحانی اور پی پی 125 سے طارق سبحانی امیدوار ہونگے ۔ اس سلسلہ میں تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے بہت سے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی تحریک انصاف سے رابطہ میں ہیں تاہم قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے چوہدری اخلاق احمد بھی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس ضمن میں ممبر قومی اسمبلی چوہدری ارمغان سبحانی کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ کسی نے رابطہ نہیں کیا، وریو خاندان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ وریوخاندان 1993ء سے متعدد بار پارٹیاں تبدیل کرنے کے بعد 2013ء میں دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ محمد آصف بلدیاتی انتخابات میں من مرضی کرنے پر وریو خاندان سے ناراض ہیں جس کاوریو خاندان کونقصان ہوسکتا ہے ۔

تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وریو خاندان سے تحریک انصاف کا مرکزی سطح پر رابطہ ہے مگر تین ٹکٹوں پر بحث مباحثہ جاری ہے ۔