فلسطینی وزیر اعظم کے قافلے پر بم حملہ

فلسطینی وزیر اعظم رامی حمداللہ کے قافلے پر گزہ پٹی کے غیر معمولی دورے کے دوران بم حملے سے 7 افراد زخمی ہوگئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قافلے میں موجود سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ رامی حمداللہ حماس کے زیر انتظام علاقے میں داخلے کے فوری بعد ہونے والے دھماکے میں محفوظ رہے۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی انٹیلی جنس کے سربراہ ماجد فراج بھی اس قافلے میں موجود تھے تاہم وہ بھی دھماکے میں محفوظ رہے۔
فلسطین کی سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والے بیان میں صدر محمود عباس نے فلسطینی وزیر اعظم کے قافلے پر ہونے والے حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے حماس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
مذکورہ دھماکے کی اب تک کسی تنظیم کے جانب سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
حماس کی وزارت داخلہ نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ مصالحت کے تحت حماس اور فسلطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح پارٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو رامی حمداللہ کے دورے سے روکنا نہیں چاہتے۔
خیال رہے کہ فلسطین کی دو اہم مخالف سیاسی جماعتوں، حماس اور فتح کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں سیاسی مفاہمت کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت حماس کی طاقت میں اضافہ ہوا تھا تاہم یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔
فلسطینی وزیر اعظم حملے کے بعد میڈیا میں سامنے آئے اور علاقے میں پلانٹ کا افتتاح کیا تھا۔
یاد رہے کہ حماس اور فتح 2014 میں بھی انتظامی سطح پر قومی مفاہمت پر متفق ہوگئے تھے لیکن تفصیلات پر یکسو نہ ہو سکے تھے۔
حماس کی 2006 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک متفقہ حکومت بنائی گئی تھی جو مختصر وقت تک برقرار رہی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے حماس پر مذکورہ علاقے کا کنٹرول چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا، اس میں غزہ میں رہائش پذیر ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی اور اسرائیل سے اس علاقے میں بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کی درخواست جیسے اقدامات شامل ہیں۔
حماس کو دباؤ میں لانے کے لیے محمود عباس نے اسرائیل کو بجلی کے واجبات کی ادائیگی روک دی تھی جس کے بعد روزانہ چار سے چھ گھنٹے بجلی کی بندش ہوتی تھی۔