اسلام آباد و پنڈی میں ایک ماہ کے دوران ’کریم‘ کا دوسرا ڈرائیور قتل

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک ماہ کے دوران آن لائن ٹیکسی سروس ’کریم‘ کے دوسرے ڈرائیور کو قتل کردیا گیا۔
کریم کے سجاول امیر نامی ڈرائیور نے آخری سواری گزشتہ شب 10 بجے مسریال روڈ کے علاقے سے اٹھائی تھی اور منگل کی صبح لکھو کے علاقے سے اس کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی۔
سجاول کو پانچ گولیاں لگیں جبکہ مقتول کی گاڑی بھی جائے وقوع سے مل گئی ہے۔ ابتدائی طور پر اسے ڈکیتی پر مزاحمت کا واقعہ سمجھا جارہا تھا تاہم پولیس نے مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سجاول کو تعاقب کرکے قتل کیا گیا اور اس کی گاڑی بھی جائے وقوع سے برآمد ہوگئی ہے، ممکن ہے اسے ذاتی دشمنی کی بناء پر قتل کیا گیا ہو البتہ مقتول کے گھر والوں اور رشتے داروں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد ہی صورتحال واضح ہوگی۔
خیال رہے کہ تین ہفتے پہلے 22 فروری کو اسلام آباد میں 26 سالہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور جنید مصطفیٰ کو بھی قتل کیا گیا تھا۔
آن لائن ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ڈرائیورز کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بعد یہ سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ ٹیکسی سروس میں مسافروں کا تحفظ تو یقینی بتایا جاتا ہے لیکن ڈرائیورز کا تحفظ کون یقینی بنائے گا؟