نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی وزرات خارجہ میں شکایت کے باوجود نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ اپنی ایجنسیوں کو لگام دینے میں ناکام ہوگئی ہے اور آج پھر پاکستانی سفارت کار کے بچوں کی گاڑی کو روک کر ہراساں کیا گیا۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ ایک دوسرے واقعے میں نئی دہلی میں تعینات سینیئر سفارت کار کی گاڑی کو روکا گیا جس کے بعد روکنے والی گاڑی سے ایک شخص نے اتر کر سفارت کار کی تصاویر بھی بنائیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے معاملہ ایک بار پھر بھارتی وزارت خارجہ کے ساتھ اٹھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی
پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔
پاکستان نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام کو ہراساں کرنے پر  بھرپور احتجاج کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت پاکستانی سفارتکاروں کو تخفظ دینے میں ناکام رہا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  7اور 8 مارچ کو سفارتی اہلکاروں کے بچوں کی گاڑیوں کو روکا گیا، اسکول جاتے بچوں کی ویڈیو بنائی گئی اور ہراساں کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق معاملہ بھارتی سیکریٹری خارجہ کے علم میں لایا گیا لیکن ایکشن لینے کی بجائے سفارتی عملے کے رہائشی علاقے کی گیس بند کر دی گئی۔
9مارچ کو پولیٹیکل قونصلر کو ٹیکسی سے اتارا گیا، پولیٹیکل قونصلر کو ہراساں کیا گیا اور ویڈیو بنائی گئی۔
13 مارچ کو بھی بھارت میں سفارتی اہلکاروں کے بچوں کو ہراساں کیا گیا، گاڑی کو 40 منٹ تک روکے رکھا گیا، بچوں کو ہراساں کرکے ویڈیو بنائی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈرائیورز کو حبس بےجا میں رکھا گیا اور ڈرائیورز سے موبائل فون بھی لے لیے گئے تا کہ وہ رابطہ نہ کر سکیں۔