لاہور میں پی ایس ایل میچز رکوانے کی بھارتی سازش…. آرمی چیف نے بڑا حکم جا ری کر دیا

لا ہور (رپورٹ :اسد مرزا)لا ہور میں دہشت گر دوں نے تبلیغی اجتماع کے قریب نثا ر پو لیس چیک پو سٹ پر خو د کش حملہ کر کے 3تین پو لیس اہلکا روں سمیت 8افر اد شہیدہو گئے جبکہ 50سے زائد افر اد زخمی ہو گئے جس میں اے ایس پی رائیونڈزبیر نذیر ،ایس ایچ او نواب ٹاﺅن ،چوہنگ واہلکا روں کے علاوہ شہری بھی شامل ہیں۔انٹیلی جنس اطلا عا ت کے مطا بق بھا رتی خفیہ ایجنسی (را)کے زیر انتظا م چلنے والی پا کستا ن کی کا لعد م تنظیمو ں نے لا ہو ر میں پی ایس ایل میچز کو رکو انے کے کی منصو بہ بند ی کر رکھی تھی کہ ملک میں افر اتفر ی بھی پھیلے اس حو الے سے حکو مت اور پو لیس حکا م کو رابطے کے زریعے آ گا ہ کر دیا گیا تھا ۔اس حو الے سے پی ایس ایل میچز کے انعقا د کیلئے سیکو رٹی کے فو ل پر وف انتظا ما ت کر نے کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر پا ک فو ج اور رینجر ز پولیس سے تعاون کے علاوہ سیکورٹی کے انتظامات سنبھالے گی ۔ڈی آئی جی لاہور نے اس حوالے سے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندی کر رکھی تھی کہ گز شتہ رات دہشت گر دوں کے اس نیٹ وررک نے رائیو نڈ میں پو لیس پو سٹ پر خو د کش حملہ کر کے حکو مت اور سیکو رٹی اداروں اپنی مو جو د گی کی اطلا ع دی ۔

سیکو رٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گر دوں نے نیٹ ورک میں شا مل متعد د خو د کش حملہ آ ور اب بھی مو جو د ہیں ۔اس حو الے سے سیکو رٹی ایجنسیز دہشت گر دوں کے نیٹ ور ک کا سر اغ لگا نے کیلئے اقد اما ت کر رہی ہیں۔عینی شا ہد ین کے مطا بق دھماکے کی شدت اتنی شدید تھی کہ اس سے قریب کھڑی متعدد گاڑیوں میں آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز علاقے میں پہنچیں اور ایمبیولینسوں کے ذریعے زخمی افراد کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔دھماکے میں زخمی ہونے والے بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو سیل کر کے آمدورفت کیلئے بند کر دیا ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے بتایا کہ دھماکے میں پولیس کو ٹارگٹ کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور ہر موٹر سائیکل کے استعمال بارے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو اور جناح منتقل کیا جا رہا ہے۔ایس پی صد ر ڈویثر ن عمر فاروق کاکہنا تھا کہ دھماکا خود کش تھا۔ دھماکے کے بعد لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکورٹی کے انتظامات مذید سخت کر دیئے