خان جی : اب آپ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں مگر یہ ایک چیز الیکشن 2018 میں آپ کے لیے سانپ اور سیڑھی کا کھیل ثابت ہو سکتی ہے لہذاٰ اس کا سد باب کیجیے ۔۔۔۔نامور صحافی نے عمران خان کو شاندار مشورہ دے ڈالا

لاہور (ویب ڈیسک ) یہ بات تو اب ثابت ہوتی جا رہی ہے کہ تحریک انصاف کے پاس انتخابات میں حصہ لینے کے لئے امیدواروں کی کمی نہیں ہے۔۔۔’’ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں‘‘۔ کے مصداق ہر طرف امیدوار ہی امیدواربکھرے پڑے ہیں۔ ایسی پارٹی جو امیدواروں کا جمعہ بازار بن جائے، بڑی خطرناک صورت حال سے دوچار ہوجاتی ہے،

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ہر امیدوار دوسرے پر خودکش حملہ کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ اب خان صاحب نے اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لئے ایک امرت دھارا استعمال کرکے نسخہ نکالا ہے۔ انہوں نے ممبر سازی مہم شروع کرا دی ہے۔ وہ ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف اس کے ذریعے پارٹی کی مہم چلے گی۔ دوسری طرف ممبر بنیں گے اور تیسری جانب امیدوار بننے کے خواہشمندوں سے جان چھڑانے کا موقع ملے گا۔ اب یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی ایم این اے کی ٹکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے تو چار ہزار ممبر بنائے، اس کے لئے 50روپے فی ممبر کے حساب سے فارم دیئے جائیں گے اور رقم پیشگی وصول کی جائے گی۔ اسی طرح ایم پی اے کی ٹکٹ کے لئے دو ہزارممبر بنانے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ گویا جتنے بھی الیکشن لڑنے کے شوقین ہیں، وہ بالترتیب ایم این اے کے لئے دو لاکھ اور ایم پی اے کے لئے ایک لاکھ روپے کے ممبرشپ فارم حاصل کریں گے۔ ہر ممبر کا شناختی کارڈ، دستخط اور آمادگی کا حلف کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا میں فیڈ کیا جائے گا۔ اب یہ اتنا مشکل ٹاسک ہے کہ شاید ہی کچھ لوگ اسے پورا کر سکیں۔ اس طرح گویا کپتان کو یہ آسانی رہے گی کہ وہ انتخابی ٹکٹیں اپنی مرضی سے تقسیم کر سکیں۔

پی ٹی آئی کا ایک متوقع امیدوار پوچھ رہا تھا کہ کیا جو لوگ مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں، انہیں بھی اس مرحلے سے گزارا جائے گا یا انہیں بالا بالا ہی ٹکٹیں دے دی جائیں گی؟ اب اس بھولے بادشاہ کو میں کیسے سمجھاتا کہ وہ تو شامل ہی اس شرط پر ہو رہے ہیں کہ انہیں انہی حلقوں سے امیدوار نامزد کیا جائے گا، جہاں سے وہ پہلے منتخب ہو چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس ممبر سازی کے عمل سے تحریک انصاف کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں روپے حاصل ہو جائیں گے، اس کا حشر بھی البتہ انٹرا پارٹی الیکشن جیسا ہو سکتا ہے۔۔۔ عمران خان آج کل اس ممبر سازی مہم کے سلسلے میں نکلے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ ملتان بھی آئے اور سات گھنٹوں میں 25سے زائد ممبر سازی کیمپوں کا دورہ کیا۔ افتتاح بھی کرتے رہے اور خطاب بھی۔ مجھے تو ان کی یہ مہم دیکھ کر دو دھائی پہلے کا منظر یاد آ گیا۔ جب عمران خان ملتان آئے تھے اور شہر کے مختلف حصوں کا انہوں نے دورہ کیا تھا۔ اسی دورے میں نصرت روڈ پر پہلی بار ’’وزیراعظم عمران خان‘‘ کے نعرے بھی لگے تھے اور جناب مجیب الرحمن شامی نے اسی عنوان سے ایک دلچسپ کالم بھی لکھا تھا۔

یہ نعرہ اس بار بھی لگتا رہا۔ بیس سال پہلے تو خود عمران خان بھی اس نعرے کو ایک خواب سمجھتے تھے، مگر اب انہیں یہ نعرہ غالباً بہت اچھا لگتا ہے، کیونکہ وہ اس نعرے پر مسکراتے بھی ہیں اور نعرے لگانے والوں کو خاموش رہنے کا بھی نہیں کہتے۔ وہ تسلسل کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ اگلی حکومت ہماری ہے، کوئی ہمیں اقتدار میں آنے سے نہیں روک سکتا۔ جب وہ اس قدر یقین سے یہ کہتے ہیں تو ان کے مخالفین پھر یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ غالباً عمران خان کو اشارہ مل گیا ہے کہ اگلی باری ان کی ہے اور یہ اشارہ ایسی قوتوں نے کیا ہے جو انگلی بھی رکھتی ہیں اور اشارہ بھی۔ کل عمران خان کے ایک بے رحم ناقد نے یہ دلچسپ پہلو نکالا کہ پوری قوم کو عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی منتیں کر رہے ہیں کہ انتخابات وقت پر کرائے جائیں، کیونکہ اس بار انہوں نے جیت جانا ہے، وگرنہ صورتِ حال تو کچھ ایسی بن رہی ہے کہ شاید انتخابات بروقت نہ ہو سکیں۔ ملتان میں ان کی ممبر بناؤ مہم کس حد تک کامیاب رہتی ہے،اس کا اندازہ تو کچھ عرصے بعد ہوگا، لیکن ان کی آمد پر بھی وہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا جو پارٹی کا اصل دردِ سر ہے،

یعنی گروپ بندی۔ جب عمران خان کی ملتان آمد کا پروگرام بن رہا تھا تو کئی دھڑے اپنے اپنے انداز سے پروگرام ترتیب دے رہے تھے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ عمران خان ان کے کیمپ میں زیادہ وقت گزاریں۔ کوئی مشرق سے مہم شڑوع کروانا چاہتا تھا اور کوئی مغرب سے۔ ملتان کے دورے میں شاہ محمود قریشی تو عمران خان کے ساتھ نظر آئے۔ جہانگیر خان ترین غائب رہے، البتہ ان کی نمائندگی اسحاق خان خاکوانی کرتے پائے گئے۔ سیاسی جماعتیں جب تک منظم نہ ہوں، نتائج نہیں دے سکتیں۔ یہاں ہر لیڈر کی خواہش تھی کہ عمران خان کو یہ باور کرائے کہ سب سے اچھا امیدوار وہی ہے۔ دورے کے اگلے دن جو اشتہارات اور خبریں شائع ہوئیں، ان میں بھی ٹکٹوں کے خواہشمندوں نے یہی تاثر دیا کہ عمران خان نے ان کی ٹکٹوں کو اوکے کر دیا ہے، پی ٹی آئی کا مقابلہ تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے ہونا ہے، لیکن فی الحال مقابلہ آپس میں جاری ہے۔ کوئی بھی صرف پارٹی وابستگی کی وجہ سے دوسرے کو قبول کرنے پر راضی نہیں۔ اب اس مسئلے سے نکلنے کے لئے عمران خان نے ممبر سازی کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن آگے چل کر سب کو پتہ ہے کہ فیصلے گروپ بندی کی بنیاد پر ہونے ہیں۔

شاہ محمود قریشی اپنے خطابات میں یہ کہتے رہے کہ الیکشن میں پی ٹی آئی ملتان سے کلین سویپ کرے گی، حالانکہ تبصرہ کرنے والے کہتے ہیں کہ انہیں خود اپنی سیٹ بچانے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑے گی۔ وہ جس قومی حلقہ 150سے منتخب ہوتے تھے، اس کے ووٹر پانچ برس ان کی راہ ہی تکتے رہے۔ وجہ وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ حکومت نے اپوزیشن ممبران کو فنڈز ہی نہیں دیئے وہ ترقیاتی کام کیسے کرا سکتے تھے؟ مگر آج تک انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت کو اس حلقے کے حوالے سے کتنے منصوبے پیش کئے تھے، جنہیں منظور نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف موٹرسائیکل کی پچھلی نشست پر بیٹھ کر حلقے کی گلیوں میں پھرتے رہے ہیں، کیا کرایا کچھ نہیں۔ عمران خان کا بیانیہ اب تبدیل ہو چکا ہے۔ نوازشریف گویا ان کی زبان سے اتر گیا ہے اور شہبازشڑیف کا نام اس کی جگہ لے چکا ہے۔ وہ شہبازشریف کا مقابلہ نہیں کرنا چاہتے، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی نوازشریف کی طرح نکال دیا جائے۔ وہ ایسی باتیں نہ کریں تو بہتر ہے، کیونکہ ان باتوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے واک اوور چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ شہبازشریف بھی نااہل ہو کر راستے سے ہٹ جائیں

اور صورتِ حال ’’سنجیاں ہو جان گلیاں وچ مرزا یار پھرے‘‘، والی ہو جائے۔۔۔ جو بھی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایسا واک اوور کسی کو نہیں ملے گا۔ ہبازشریف کا میدان سے ہٹنا اس بات کو ثابت کر دے گا کہ ایک فیملی کو باقاعدہ ہدف بنایا گیا ہے۔ ان کی میدان میں موجودگی بہت ضروری ہے، اس سے ایک طرف ملک میں سیاسی مقابلے کی فضا رہے گی اور دوسری طرف یہ تاثر نہیں ابھرے گا کہ جو نوازشریف کا بیانیہ ہے، وہ غلط نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ وہ مرحلہ ہے، جب عمران خان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے۔ ان کی ذرا سی لغزش ان کے سیاسی مستقبل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ وہ تو خود کرکٹر رہے ہیں اور یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جب کھلاڑی سینچری کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آؤٹ ہو جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ خاصی نازک صورت حال سے گزر رہا ہوتا ہے۔ منزل کے قریب پہنچ کر منزل کو کھو دینے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔ آج پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں کی جو یلغار ہو رہی ہے، اس پر عمران خان کو ڈنکے بجانے کی بجائے غور و فکر کرنا چاہیے۔ لوگ ان کے ہر عمل کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں،

چیئرمین سینیٹ کے لئے پیپلزپارٹی سے اتحاد کو اچھا نہیں سمجھا گیا، حالانکہ اس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اپنا چیئرمین بنوانے میں ناکام رہی۔ اب اگر یہ تاثر گہرا ہوتا چلا گیا کہ عمران خان ، مسلم لیگ (ن) کے منحرفین کو ساتھ ملا کے حکومت بنانا چاہتے ہیں تو نہ صرف ان کے کارکنوں میں بددلی پھیلے گی، بلکہ عام ووٹر بھی یہ ضرور سوچے گا کہ صرف نوازشریف نے تو سارا خزانہ نہیں لوٹا، ان کے ساتھ جو لوگ تھے، وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے، پھر انہیں ساتھ ملا کر عمران خان کیسے نیا پاکستان بنائیں گے؟۔۔۔ایک کیمپ میں جب عمران خان پہنچے تو مقرر یہ کہہ رہا تھا کہ آج یہ ثابت ہو گیا کہ عمران خان کا ملتان مضبوط ہے۔ ملتان نے عمران خان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ میں یہ سوچنے لگا کہ چند ہزار لوگوں کے اکٹھے ہونے کو عوام کا فیصلہ کہہ دیا جاتا ہے۔نوازشریف بھی دس پندرہ ہزار افراد کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بیس کروڑ عوام کی عدالت کے فیصلے کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ سب گمراہ کرنے والی باتیں ہیں اور ان کا مقصدمحض سیاسی طور پر خود کو زندہ رکھنا ہے۔ آنے والے انتخابات میں عمران خان کا چانس ضرور ہے، مگر ابھی بہت لمبا سفر باقی ہے، قطرے کے گہر ہونے تک نجانے کیا کچھ رونما ہوتا ہے۔پاکستان میں سیاست سانپ اور سیڑھی کا کھیل ہے، صرف کرکٹ نہیں۔ اس لئے کپتان کو فیصلے سوچ سمجھ کر کرنا پڑیں گے، وگرنہ اوپر سے نیچے آنے میں دیر نہیں لگتی۔