’’دبنا ہے‘‘ یا ’’سیاسی موت‘‘ قبول کرنی ہے؟ ن لیگ کے اہم اجلاس میں جب چودھری نثار کا معاملہ زیر بحث آیا تو مریم نواز کا کیا ردعمل تھا؟ چونکا دینے والے انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ن لیگ کے سینئر سیاسی رہنما اور نواز شریف کے دیرینہ ساتھی چودھری نثار کی ن لیگ سے ناراضگی کی خبریں تو گردش کر ہی رہی ہیں، ن لیگ کے اجلاس میں جب چودھری نثار علی خان کا ذکر آیا تو میاں نواز شریف اور مریم نواز کی کیا حالت ہوئی۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں معروف صحافی محمد مالک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے بھی اجلاس میں بات کی تو چودھری نثار کی بات ہوئی۔ کہا یہ جا رہا ہے

کہ ان کے ذکر پر میاں نواز شریف کا ردعمل مثبت تھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے انہیں کوئی اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن مریم نواز کے چہرے پر سختی تھی اور یہی کہا جا رہا ہے کہ چودھری نثار کی واپسی میں اصل رکاوٹ مریم نواز کا غصہ ہے۔ پروگرام کے دوران معروف صحافی عامر متین نے کہا کہ جہاں تک بات چودھری نثار کی ہے تو میرے خیال میں اب نواز شریف، مریم نواز یا شہباز شریف نے ان کا فیصلہ نہیں کرنا، اب بات اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ چودھری نثار نے خود فیصلہ کرنا ہے کیونکہ ان کو نظر آ گیا ہے کہ جان بوجھ کر ان کی بے عزتی کروائی گئی ہے اور انہیں اس پارٹی میں اپنا مستقبل بھی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے ہوتے ہوئے اور نواز شریف کی سٹریٹجی کو دیکھتے ہوئے چودھری نثار علی خان صلح نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی صلح کرنے کا مطلب ہے، نیچے دب کر رہ جانا انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے لیے جگہ چھوڑنے کا مطلب سیاسی موت ہے۔ ن لیگ کے سینئر سیاسی رہنما اور نواز شریف کے دیرینہ ساتھی چودھری نثار کی ن لیگ سے ناراضگی کی خبریں تو گردش کر ہی رہی ہیں، ن لیگ کے اجلاس میں جب چودھری نثار علی خان کا ذکر آیا تو میاں نواز شریف اور مریم نواز کی کیا حالت ہوئی۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں معروف صحافی محمد مالک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے بھی اجلاس میں بات کی

تو چودھری نثار کی بات ہوئی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ ان کے ذکر پر میاں نواز شریف کا ردعمل مثبت تھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے انہیں کوئی اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن مریم نواز کے چہرے پر سختی تھی اور یہی کہا جا رہا ہے کہ چودھری نثار کی واپسی میں اصل رکاوٹ مریم نواز کا غصہ ہے۔