فیس بک اسکینڈل پر مارک زکربرگ نے معافی مانگ لی، اصلاحات کی یقین دہانی

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کیمبرج انالیٹکا اسکینڈل پر معافی مانگتے ہوئے صارفین کی پرائیویسی سے متعلق اصلاحات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
مارک زکربرگ امریکی سینیٹرز کے سامنے پیش ہوئے اور اس موقع پر ان سے امریکی انتخابات میں صارفین کے ڈیٹا چوری اور پھر اس کے الیکشن میں استعمال سے متعلق کئی سخت سوالات کیے گئے۔
طویل سماعت کے دوران 42 سینیٹرز پر مشتمل دو پینل کامرس اور عدلیہ کمیٹی نے فیس بک کے بانی سے سوالات کیے جس کے دوران ڈیٹا چوری ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے اپنی جانب سے معافی مانگی تاہم سینیٹرز کی جانب سے سخت قوانین لانے کے اشاروں پر وہ اپنی کمپنی کا دفاع کرتے رہے۔
چار گھنٹے سے زائد سیشن کے دوران مارک زکربرگ نے کہا کہ فیس بک کو جعلی خبروں، نفرت آمیز مبنی مواد اور انتخابات میں غیرملکی مداخلت جیسے مسائل کا سامنا ہے اور ہم اس حوالے سے نبردآزما ہونے کے لئے ذمہ داری ادا نہ کرسکے۔
مارک زکربرگ نے کہا کہ یہ میری غلطی ہے جسے تسلیم کرتا ہوں، فیس بک کو میں نے بنایا اور اس پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے میں ہی ذمہ دار ہوں۔
مارک زکربرگ نے کہا کہ فیس بک کو روس کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے کی شناخت کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اس پر بہت افسوس ہے تاہم 2018 میں پہلی ترجیح اس غلطی کو سدھارنا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ فیس بک حکام سے 2016 کے انتخابات کے دوران روسی مداخلت سے متعلق پوچھ گچھ ہورہی ہے۔
مارک زکربرگ نے سینیٹرز کو یقین دہانی کرائی کہ پرائیویسی تنازع سامنے آنے کے بعد فیس بک معنی خیز تبدیلیاں لارہا ہے ۔
سینیٹر ٹیڈ کروز نے الزام لگایا کہ فیس بک قدامت پسندوں کے خلاف وسیع سطح پر سیاسی تعصب رکھتا ہے جس پر مارک زکربرگ نے اس کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کے تعصب کے خاتمے کے لئے کام کر رہے ہیں۔
کامرس کمیٹی کے سینئر سینیٹر سین بل نیلسن نے سوال کیا کہ اگر فیس بک یا دیگر آن لائن کمپنیاں پرائیویسی حملے نہیں روک سکتے تو انہیں سخت قانون کا سامنا کرنا چاہیے جس پر مارک زکربرگ قانونی پابندیوں کے خلاف اپنی کمپنی کا دفاع کرتے رہے۔