مرضی کے فیصلے نہیں کرتے، آئین و قانون کے مطابق چلتے ہیں: چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں، قاضی اپنے مرضی کے فیصلے نہیں کرتے بلکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں۔
کوئٹہ میں وکلا اور ججز سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں 1908 میں جو قانون بنایا گیا اسے تبدیل کیا جائے، اس قانون پر ہی عمل کرلیں تو انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہوسکے گی۔
جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ سے لوگوں کو امید ہے کہ وہ انہیں انصاف دلائیں گے لیکن محسوس کر رہا ہوں ہم اپنی صلاحیتیں مطلوبہ معیار کے مطابق استعمال نہیں کر رہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدل کی بنیادوں کو مضبوط نہیں کر پائے تو اللہ کے سامنے کیسے سرخرو ہوں گے، جس کا حق مارا گیا وہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور کئی کئی سال تک فیصلے کا انتظار کرتا ہے، اس کا کون ذمہ دار ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ فراہمی انصاف میں تاخیر پر مجھ سمیت ہائیکورٹ اور دیگر عدالتوں کے ججز اس کے ذمہ دار ہیں، جو شخص اپنے حق کے لیے لڑتا ہے اسے کون انصاف دے گا، ہمیں حکومت کی طرف سے تعاون اور وسائل میسر نہیں آرہے لیکن ہمیں اس کے باوجود کام کرنا ہوگا۔
جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ چاہے میں ہوں یا کوئی اور ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہے، لوگوں کو بروقت انصاف نہ ملے تو لوگ متنفر ہوتے ہیں، اللہ نے توفیق دی ہے کہ آپ انصاف کرسکیں، سمجھ نہیں آتی ہے کہ سول کیسز میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے کہ چار چار سال مقدمہ چلتا رہتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حیران ہوں کہ وہ قابل ججز کہاں گئے جن کے فیصلے موتیوں سے لکھے جاتے تھے، ایسے ججز تھےکہ ان کے فیصلے سپریم کورٹ آتے تو تبدیل نہیں ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے طور پر برملا کہتا ہوں سول جج، جوڈیشل مجسٹریٹ اور چیف جسٹس کے کام میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا، کسی بھی معاشرے میں انصاف ہونا ضروری ہے، ناانصافی پر مبنی معاشرہ نہیں چل سکتا
چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ بازی معاشرے کی بیماری ہے لیکن ہر شہری کا حق ہے کہ اسے بروقت انصاف ملے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان سے عدالتی اصلاحات کے آغاز کا اعلان کیا ہے، عدلیہ ریاستی ادارہ ہے جس کے بغیر اس کا قیام ناممکن ہے، کفرکا معاشرہ چل سکتا ہے مگر ظلم و ناانصافی کا معاشرہ نہیں چل سکتا۔