میں دہشت گرد نہیں جو جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو شامل کیا گیا: نواز شریف

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں دہشتگرد تو نہیں جو پاناما جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو شامل کیا گیا اور اڈیالہ جیل میں صفائیاں ہو رہی ہیں تو انہیں کیسے پتہ چلا کہ کوئی آرہا ہے۔
ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے لیے احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے کہا کہ ایک ایک کرکے جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے پول کھل رہے ہیں، جے آئی ٹی نے اصل حقائق چھپانے کی کوشش کی، جو حقائق ہمارے حق میں جاسکتے تھے، انہیں بہت عیاری و چالاکی کے ساتھ چھپانے کی کوشش کی لیکن پکڑے گئے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ واجد ضیا نے ہمیں سرٹیفکیٹ دیا کہ نواز شریف کے وکیل ٹھیک کہتے ہیں، انہیں یہ بھی کہنا پڑا کہ نواز شریف کی تنخواہ کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں، جس الزام پر وزیراعظم کو نااہل کیا اس کا ثبوت ہی نہیں ملا تو پھر یہ مقدمہ کیا ہے؟، یہ مقدمہ فراڈ اور انتقام لینے کا ایک کیس ہے کیونکہ نواز شریف اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتا اور عوام اس کے ساتھ ہیں اسی لیے مجھے برداشت نہیں کیا جاتا۔
نواز شریف نے کہا کہ واٹس ایپ پر جے آئی ٹی کے 6 ہیرے تلاش کیے گئے، عرفان نعیم منگی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سوا باقی 5 تین ہیرے ہمارے سیاسی طور پر بدترین مخالف ہیں، ان کا، ان کے اہل خانہ، بیویوں، یا قریبی رشتے داروں کا تعلق نہ صرف پی ٹی آئی سے ہے بلکہ وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز ہیں، میرا کیس دہشتگردی کا نہیں تھا، میں ملک کے خلاف کام نہیں کررہا تھا، تو آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی، اس طرح کے کیس میں حساس ایجنسیوں کو کیوں ڈالا گیا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے لندن میں جس کمپنی کی خدمات حاصل کی گئیں اس کا مالک جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا کزن تھا، ہمارے وکیل نے کمپنی کو دی گئی فیس کے بارے میں سوال کیا تو واجد ضیا نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میرا استحقاق ہے، واجد یہ آپ کی کمائی نہیں تھی جسے آپ نے کزن کے حوالے کردیا، قوم کے خون پسینے کی کمائی تھی، آج نہیں تو کل جواب دینا پڑے گا اور احتساب ہوگا، جے آئی ٹی میں چن چن کر ٹرانسفر کراکر ہمارے مخالفین کو شامل کیا گیا تاکہ من پسند حقائق اور فیصلہ حاصل ہو اور سینوں میں دبی انتقام کی خواہش کو پورا کیا جاسکے۔
قبل ازیں کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں احتساب عدالت کو 6 ماہ میں فیصلے کا نہیں بلکہ لازمی سزا سنانے کا کہا تھا، اڈیالہ جیل میں صفائیاں ہو رہی ہیں اور تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، کیا انہیں پہلے سے علم ہو گیا ہے کہ کوئی شخص آ رہا ہے، انہیں کیسے پتا چلا کہ کوئی آ رہا ہے؟۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگی ارکان اسمبلی کی بغاوت کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جنوبی پنجاب میں مثالی کام کیا، آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں جنوبی پنجاب میں جنہوں نے پارٹی چھوڑی وہ ایسے ہی چلے گئے؟۔
مسلم لیگ کے ناراض رہنما چودھری نثار سے متعلق سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ چودھری نثار کے بارے میں قوم مجھ سے جانے بغیر ہی سب کچھ جانتی ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے نگراں حکومت میں نیب قوانین کو غیر موثر کرنے کے بارے میں بات ہوئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے امیدواروں پر نیب دباوٴ نہ ڈالے۔
اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ جن رہنماؤں سے ووٹ کے ذریعے نہیں جیتا جاسکتا انہیں عدالتوں کے ذریعے باہر نکال دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ راولپنڈی کی سنٹرل جیل اڈیالہ میں کسی اہم مہمان کی میزبانی کے لئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ جیل کے احاطہ میں واقع ہائی سیکیورٹی جیل کی تزئین وآرائش شروع کردی گئی ہے جہاں مختلف سیلوں میں وائٹ واش کرایا جارہا ہے اوربلبوں اورنئی لائٹس بھی لگائی جارہی ہیں۔