عدالت نے خواجہ آصف کو انتہائی زور دار جھٹکا دیدیا ، پوری حکومت ہل کر رہ گئی

لاہور ( آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کی خواجہ آصف کی نااہلی کی پٹیشن پر فیصلہ محفوظ کر لیاہے ، سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ’جو شخص کسی اور ملک میں ملازمت کرتا ہو وہ پاکستان میں پہلے پانی و بجلی پھر دفاع اور اب وزارت خارجہ کیسے چلا سکتاہے ‘۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرا م میں صحافی ’کامران خان‘ کا کہناتھا کہ آج وزیر خارجہ خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت میں جواب جمع کروایا جس میں ان کا کہناتھا کہ خواجہ آصف دبئی کے ایک بینک میں سروس کرتے تھے اور انہوں نے 2011اور 2012 میں 50 ہزار درہم وصول کیے تھے اور انہوں نے کاغذات نامزدگی میں بھی غیر ملکی کرنسی کا ذکر کیا تھا ۔
وکیل کا جواب سن کر جسٹس اطہر من اللہ نے تعجب کا اظہا کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جوشخص کسی اور ملک میں ملازمت کرتا ہو وہ پاکستان میں پہلے پانی و بجلی پھر دفاع اور اب وزارت خارجہ کس طرح چلا سکتا ہے ۔

اس موقع پر بینچ کے رکن جسٹس عامر فاروق نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ ایک وزیر اگر وکیل ہو تو وہ کسی کیس میں وکالت نہیں کر سکتا تو کسی اور ملک میں سروس کیسے کر سکتاہے ۔
بیچ کے تیسرے رکن جسٹس اختر کیانی نے اس موقع پر نقطہ اٹھایا کہ خواجہ آصف کو وفاقی وزارت ہونے کے باوجود غیر ملکی کمپنی میں نوکری کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی ۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کے خلاف گزشتہ سال 11 اگست کو لاہور ہائیکورٹ میں خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے پٹیشن دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف دبئی کی کمپنی آئی ایم ای سی ایل میں ملازمت کر رہے ہیں اور باقاعدہ تنخواہ بھی لے رہے ہیں جبکہ ان کے پاس اقامہ بھی موجود ہے جو کہ جولائی 2019 تک کارآمد ہے اور انہوں نے یہ رقم کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کی ہے ۔