”مجھے اس افسر کا فون آیا کہ وزیراعظم نے اپنے والد کی قبر پر جانا ہے لیکن قبر نہیں مل رہی تو میں نے کہا کہ کسی پر بھی کتبہ لگا دو “ شیخ رشید نے ناقابل یقین واقع سنا دیا ، یہ کونسے وزیراعظم تھے ؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

لاہور ( آن لائن )لاہور کے آواری ہوٹل میں سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی کتاب ’سچ تو یہ ہے ! ‘ کی تقریب رونمائی ہوئی جس میں سینئر صحافی و کالم نگار حسن نثار،اوریا مقبول جان اور حامد میر سمیت دیگر کئی بڑے صحافیوں نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو تھے جبکہ شیخ رشید بھی تقریب میں شریک ہوئے ۔

تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے ماضی کے قصوں کو ہوادیتے ہوئے انتہائی دلچسپ ترین واقعہ سنا دیا جسے سن کر وہاں بیٹھا ہر شخص ہی اپنی ہنسی روکنے میں کامیاب نہ ہوپایا ۔ شیخ رشید نے پاکستان کے سابق نگران وزیراعظم معین قریشی کا انتہائی دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک ڈی ایس پی تھے وہ بہت اچھے انسان تھے ،انہوں نے مجھے ایک دن فون کیا اور کہنے لگے کہ وہ بہت برا پھنس گئے ہیں، میں نے پوچھا کہ ہو ا کیا ہے ؟جس پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم معین قریشی نے اپنے والد کی قبر پر جاناہے اور مجھے ان کی میانی صاحب میں قبر نہیں مل رہی ہے ، میں نے کہا یہ کونسا بڑا مسئلہ ہے ، آپ خورشید قصوری سے ان کی وفات کی تاریخ معلوم کریں جس پر وہ پولیس افسر کہنے لگا کہ وہ میں نے پتا کروا لی ہے تو میں نے کہا کہ پھر کسی بھی قبر پر ان کے نام کا کتبہ لگوا دیں ، انہوں نے ایسا ہی کیا اور سارے ٹی وی چینلز نے دکھایا کہ وزیراعظم نے اپنے والد کی قبر پر دعا کر رہے ہیں ‘۔
شیخ رشید نے معین قریشی کے حوالے سے ایک اور واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ”اس وقت ایک وزیراعظم کی تقرری کا فیصلہ ہو رہا تھا تو میں نے چوہدری شجاعت سے پوچھا کہ کون آ رہاہے؟ تو انہوں نے کہا مجھے نہیں پتا جس پر میں نے جاننے کی کوشش کی تو میں نے سرتاج عزیز کو ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے سنا ، وہ پوچھ رہے تھے کہ آپ کی کمر کا ماپ وہی ہے جو کہ میرا ہے تو میں نے کہا کہ یہ چھوٹی کمر والا کونسا وزیراعظم آ رہاہے ؟ میں نے جنرل مجید ملک سے پوچھا کہ یہ چھوٹی کمر والا کوئی وزیراعظم آ رہاہے، کیا یہ کوئی خاتون تو نہیں ہے ؟جس پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں معین قریشی آ رہے ہیں ، وہ اس وقت بیروت کے ایک ہوٹل میں بیٹھ کر کافی پی رہے تھے اور ہم ان کے یہاں منتظر تھے ۔“

واضح رہے کہ معین قریشی جولائی 1993 سے اکتوبر 1993 تک نگران وزیراعظم رہے جبکہ وہ ورلڈ بینک میں بطور سینئر وائس پریذیڈینٹ بھی فرائض انجام دے چکے ہیں ۔