جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی نےن لیگ میں رہنے کیلئے سخت ترین شرائط پیش کر دیں

لاہور (ویب ڈیسک): ن لیگ کی جانب سے پنجاب میں بغاوت روکنے کے لیے مرتب کی گئی ابتدائی حکمت عملی غیر موثر ثابت ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ارکان اسمبلی نے ن لہیگ کے وعدوں پر اعتماد نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جنوبی پنجاب سے حکومتی ارکان اسمبلی نے پارٹی میں رہنے کے لیے سخت ترین شرائط پیش کر دی ہیں، ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے پنجاب بھر کی بیوروکریسی کو متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ اراکین اسمبلی سے الگ الگ ملاقات کرنے کا مطالبہ شہباز شریف نے مسترد کر دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ کو متحد رکھنے کے لیے اب پلان بی پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے ارکان اسسمبلی کو یہ یقین دہانی کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ انہیں آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا اور ان کو ہر طرح کی معاونت فراہم کی جائے گی لیکن جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی نے صرف تسلی لینے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد اب ن لیگ پلان بی پر عمل کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کےارکان اسمبلی کے مسائل حل کرنے کے لیے اعلیٰ افسران کو ہدایات جاری کرے گی۔
کچھ افسران کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی کے مطالبات پورے کرنے کے لیے سرکاری وسائل بھی بھرپور انداز میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ناراض ارکان اسمبلی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جلد ان کے حلقوں کا دورہ کر کے مسائل حل کریں گے ۔ مزید یہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے انتظامی افسران کو جنوبی پنجاب میں جاری ترقیاتی سکیمیں فوری طور پر مکمل کروانے کی بھی ہدایات کی ہیں۔