پنجاب میں بڑی تبدیلی، 2018ء میں کون حکومت بنانے جا رہا ہے؟ حامد میر نے صحافتی اُصولوں کے عین مطابق سچی اور کھری خبر لیک کر دی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )آج لاہور کے آواری ہوٹل میں سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی کتاب ’سچ تو یہ ہے ! ‘ کی تقریب رونمائی ہوئی

جس میں سینئر صحافی حامد میر سمیت دیگر کئی بڑے صحافیوں نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو تھے اور شیخ رشید بھی شریک ہوئے ۔تفصیلات کےمطابق تقریب رونمائی کے دوران شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے حامد میر کا کہناتھا کہ میں ناشتے پر طاہر خلیل کے ساتھ بیٹھا تھا اور انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کو کیا لگتاہے کہ مسلم لیگ ن 2018 کے الیکشن کے بعد حکومت بنا لے گی ؟ جس پر میں نے ان کی طرف دیکھا اور جواب دیا کہ ”

میرا خیال ہے کہ نہیں “، جس پر انہوں نے ایک اور سوال پوچھ لیا کہ پنجاب کی چیف منسٹری تو مل ہی جائے گی ۔ حامد میر نے کہا کہ اس پر بھی میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ بھی شائد نہ ملے اور ممکن ہے کہ یہاں پر بھی کوئی عبدالقدوس بزنجو آ جائے ، کیونکہ یہ ایک شخص کا نام نہیں ہے بلکہ یہ سوچ بن چکی ہے ‘۔حامد میرنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ووٹ کو عزت دینے کی بات ہو رہی ہے تاہم یہ بات چوہدری ظہور الہیٰ نے ہی شروع کی تھی ، 1970 کے الیکشن کے بعد جو زمانہ تھا جس کا ذکر چوہدری شجاعت نے اپنی کتا ب میں بھی کیا ہے ، اس وقت جو لوگ فوجی حکومت کو یہ مشورہ دے رہے تھے کہ جس شخص کو پاکستان کی عوام نے اکثریت دلوائی ہے اقتدار اس کے حوالے کر دیں ، تو اس وقت ان لوگوں میں چوہدری ظہور الہیٰ بھی شامل تھے جو کہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ سمجھا رہے تھے کہ ”ووٹ کو عزت دو “۔