جنوبی پنجاب میں بغاوت کے بعد ن لیگ کو ایک اور بڑا جھٹکا ،اب کونسے چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟یہ تو نواز شریف نے سوچا بھی نہ ہو گا

اسلام آباد( آن لائن)پاکستان مسلم لیگ سے منسلک شیرازی گروپ کے ارکان اور ارباب غلام رحیم سمیت سندھ کے کچھ دوسرے ارکان اسمبلی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ن لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیں ۔

مقامی اخبار ایکسپریس ٹرابیون کے مطابق گزشتہ سال فروری میں سندھ گورنر کے تقرر کے لئے شیرازی گروپ کے امیدوار کو نظر انداز کرنے پر انہوں نے مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت سے پہلے ہی اختلافات تیار کر چکے ہیں.شیرازی گروپ کے سربراہ سید شفیق شاہ شیرازی سندھ گورنر کے عہدے کے لئے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے۔شفیق کو طویل عرصے سے دیہی سندھ کی سیاست، خاص طور پر ٹھٹا اور اسکے ملحقہ علاقوں میں ”کنگ میکر“تصور کیا جاتا ہے۔

اس گروپ میں پاکستان مسلم لیگ (ن )کے ایم پی اے شاہ حسین شاہ، اعجاز حسین شاہ شیرازی ،آزاد ایم پی اے امیر حیدر شاہ شیرازی اور آزاد ایم پی اے عامر حیدر شاہ شیرازی شامل تھے جنہوں نے شفقت کو سندھ گورنر نامزد کروانے کے لئے بڑے پیمانے پرایک لوبی بنائی تھی۔تاہم، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے محمد زبیر کو دیہاتی سندھ کے تمام امیدوار وں پر ترجیح دی، جس بات پر شیرازی گروپ اور مسلم لیگ (ن )کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے.

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن اسمبلی نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی صورت میں ٹرابیون کو بتایا کہ گورنر سندھ والے اختلاف کی وجہ سے شیرازی گروپ ن لیگ کے ساتھ علیحدگی کرنے کے لیے ایک اچھے وقت کا انتظار کر رہے تھے ۔یہ وقت ن لیگ کے لیے بہت نازک ہے اور اس وقت علیحدگی ن لیگ کو ایک بڑا جھٹکا ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ شیرازی گروپ کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی تھی جب ن لیگ 2013میں اقتدار میں آئے گی تب ان کے امیدوار کو گورنر عشرت العباد کی جگہ نامزد کیا جائے گا ۔نومبر 2016میں جب عشرت گورنر سندھ کے عہدے سے دست بردار ہوئے تو شفقت کو نظر انداز کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کوگورنر بنا دیا گیا۔جنوری 2017میں صدیقی کی وفات کے بعد ایک دفعہ پھر شفقت کو نظر انداز کرتے ہوئے زبیر کو سندھ گورنر تعینات کر دیاگیا۔
نا معلوم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم این اے رمیش کمار جنہوں نے حال ہی میں ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت کی ہے،تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے انہیں سیا سی جماعتوں سے ناراض ارکان اسمبلی خصوصی طور پر ن لیگ سے وابسطہ ارکان سے رابطے کا ہدف دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید اس بات کا بھی دعوی کیا ہے کہ شیرازی گروپ کے علاوہ ملکانی اور آبرو خاندان کے لوگ جو پیپلز پارٹی سے وابسطہ ہیں وہ بھی تحریک انصاف کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔

شاہ حسین شیرازی نے تحریک انصاف کے ساتھ رابطے کے حوالے سے جواب میں کہا ہے کہ اس وقت وہ ن لیگ میں ہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے ،جب وقت آئے گا تب دیکھا جائے گا۔