واجد ضیاء پر جرح کے دوران مریم نواز کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔ واجد ضیاء پر جرح کے دوران مریم نواز کے وکیل امجد پرویز اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی ہوگئی۔
مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے واجد ضیاء سے جرح جاری رکھتے ہوئے کہا کو جے آئی ٹی نےمریم نواز کو کب سمن کیا جس پر واجد ضیاء نے بتایاانھیں 25 اور 27 جون کو مریم نواز کو سمن جاری کیے۔
اس پرمریم نواز کے وکیل نے استفسار کیا کہ 25 جون کے سمن میں مریم نواز سےکیا وضاحت مانگی گئی،جس پر گواہ واجد ضیاء نےبتایا سابق وزیراعظم کی دختر کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے اور متعلقہ ریکارڈ ساتھ لانے کا کہا گیا۔
وکیل صفائی نے پھر سوال کیاکہ کیا 25 جون سے پہلے رابرٹ ریڈلے کی فرانزک رپورٹ موصول ہو گئی تھی اس پر انھیں جواب ملا کہ 25 جون تک رابرٹ ریڈلے کی فرانزک رپورٹ موصول نہیں ہوئی تھی۔
تاہم واجد ضیاء نے بتایا کہ ڈائریکٹرفنانشل انویسٹیگیشن ایجنسی کے خط کی کاپی اور بی وی آئی کے 2012 کے خط کی کاپی منسلک ہے۔
واجد ضیاء نے کہا کہ 5 مئی 2017 کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی کسی بھی متعلقہ شخص کو بلاسکتی ہے جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پانچ مئی 2017 کے حکم نامے کی تو میں نے بات ہی نہیں کی۔
مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیلسن اور نیسکول کی ٹرسٹ ڈیڈ تصدیق کے لیے جے آئی ٹی کو نہیں کہا جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے، سپریم کورٹ نے نیلسن اور نیسکول کے اصل بینیفشل مالک کا سوال خاص طور پر اٹھایا۔