نواز ، نثار اختلافات کیا ؟ چوہدری نثار پر الزامات یا حقیقت ؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا)سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیر چوہدری نثار کت درمیان اختلافات شدید نوعیت ہیں ۔انہی اختلافات کے تناظر میں دونوں شخصیات میں کسی طرح صلح کا کوئی امکان نہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کا بیانیہ ماضی قریب اور بعید کے اقدامات ہمیشہ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف رہے جبکہ چوہدری نثار علی خان نے ہر موقع پر اسٹیبلیشمنٹ کے موقف کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے دونوں رہنماؤں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں ۔

بتایا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نے جب جنرل مشرف کو انکے عہدے سے برطرف کر کے سیکرٹری دفاع کو اسکا نوٹیفکیشن جا ری کرنے کا حکم دیا تو چوہدری نثار علی خان کے بھائی سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل چوہدری افتخار علی خان بیماری کا بہانہ کر کے گھر جا کر سو گئے جس کے باعث جنرل مشرف آرمی چیف کے کے عہدے سے ہٹائے نہ جا سکے اور جنرل ضیا الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے میں ٹیکنیکل باریکیاں حائل ہو گئیں،جب مارشل ء لگ گیا تو جنرل چوہدری افتخار علی خا ن منصب سے ہٹ گئے اور حکمرانوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ چوہدری نثار علی خان کو گھر میں نظر بند کیا لیکن انکی خفیہ سرگرمیاں جاری رہی۔

ذرائع کا کہناہے کہ مشرف دور کے خاتمے کے بعد (ن)لیگ دوبارہ اقتدار میں آئی تو چوہدری نثار علی خان کو وزارت داخلہ کا قلم دان سونپا گیا۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف آئین شکنی کے الزام میں جنرل پرویزمشرف کو گرفتار کرانا چاہتے تھے۔ لیکن چوہدری نثار علی خان ہر موقع پر رکاوٹ بنتے رہے۔ بعد ازاں جب خصوصی ٹربیونل میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف کیس زیرسماعت تھا اور انہوں نے انہوں نے ٹربیونل میں پیش ہونا تھا ، اس پر چوہدری نثار علی خان کو علم ہوا کہ وزیراعظم نے جنرل پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کراکے انہیں گرفتار کرانے کے انتظامات کررکھے ہیں، تو انہوں نے بحیثیت وزیر داخلہ پرویز مشرف کی سکیورٹی کیلئے دو مختلف روٹس پر اہلکار کھڑے کردئیے ایک روٹ عدالت جبکہ دوسرا روٹ آرمڈ فورسز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی جانب تھا، جنرل پرویز مشرف اگر عدالت جاتے تو گرفتارہونے کاامکان تھا، اس لئے وہ بیماری کا بہانا بناکر ہسپتال چلے گئے۔ جب اس حوالے سے میاں نوازشریف کو علم ہوا تو انہوں نے چوہدری نثار علی خان سے سخت ناراضی کا اظہار کیا، جس سے دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے، اسی طرح ڈان لیکس کے معاملے پر بھی چوہدری نثار علی خان نے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیتے ہوئے وہ بیانات جاری کیے جس سے اسٹیبلشمنٹ کے موقف کی تائید ہوتی رہی۔ (ن)لیگ کے حلقوں کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان صلح کے کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہے۔