کسی دور میں ایک طاقتور اور دبنگ سرکاری افسر نے نئے نئے وکیل بننے والے ذوالفقار علی بھٹو کو زوردار تھپڑ رسید کیا تھا ۔۔۔۔سالوں بعد اس تھپڑ کا بدلہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کس طرح لیا تھا ؟ یہ ناقابل یقین واقعہ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک)پہلے میرا خیال تھا کہ مَیں جناب چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن(ر)زاہد سعید کے نام اپنے ہاتھ سے لکھ کر یہ کہانی ارسال کروں جو اب مَیں کالم میں بیان کر رہا ہوں، پھر مجھے اس خیال نے روک لیا کہ کہیں موصوف اسے 18سکیل کے نہایت ہی جونیئر شخص، یعنی صوبائی سیکرٹری کو ہی ’’مارک‘‘ نہ کر دیں۔

معروف کالم نگار محمد حسین ملک لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔مَیں نے سرکاری نوکری میں کم و بیش درجن بھر چیف سیکرٹریوں کے ساتھ کام کیا ہے،بلکہ میری19 اور 20 سکیل میں ترقی کے وقت میری سالانہ رپورٹوں پر بہت سے چیف سیکرٹریوں نے بھی اپنے Counter Signs کئے ہیں۔ جناب بریگیڈیئر مظفر ملک، بریگیڈیئر قریشی، چودھری محمد صدیق، انور زاہد، جاوید قریشی تو مرحوم ہو گئے، جبکہ اللہ کے فضل و کرم سے اکثر زندہ ہیں اور خوش و خرم بھی۔ جو ملک میں ہی خدمت کرنے کے لئے واپس پاکستان آئی ہے، کے میڈیکل بل کو صرف آدھا اِس لئے منظور کیا گیا کہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں۔ضروری ہے کہ یہ معاملہ بھی خوبی سے نمٹا دیا جائے، کالم ختم کرنے سے پہلے مَیں کیپٹن صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب کام کرنے کا جذبہ ہو اور کسی معاملے میں سفارش یا سیاسی مداخلت کی اجازت نہ دی جائے تو جس میاں بشارت رسول ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ نے نوجوان بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی کارروائی کے دوران تھپڑ مارا تھا اور جس کو وزیراعظم بن کر بھٹو نے اپنی پہلی نشری تقریر میں برطرف کر دیا تھا، وہ بھی اللہ کے فضل سے ضیاء الحق دور میں بحال ہوگیا تھا اور اسے ضیاء الحق نے نہیں، بلکہ اپنے ہی ایک ساتھی چیف سیکرٹری نے یہ لکھ کر بحال کیا تھا کہ اس افسر کو نہ تو چارج شیٹ کیا گیا، نہ ہی قصور بتایا گیا۔ چنانچہ میاں بشارت رسول کو تمام واجبات بھی ملے اور ترقی بھی۔آج بھی اگر کیپٹن زاہد سعید پنجاب کی بیورو کریسی کے اجلاسوں میں اُنہیں یہ تلقین کرتے رہیں کہ وہ فائل ورک روزانہ کی بنیاد پر اسی طرح سرانجام دیں اور فیصلے کسی کی خوشنودی کے بغیر کرنے کی عادت ڈالیں تو اس کی ضرورت نہ پڑے۔جہاں تک پنجاب میں افسروں کی کمی کا معاملہ ہے ہنگامی سطح پر 19-18-17 سکیل کے دو ہزار افسر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کروا کر پوری کر لیں۔