فاٹا میں امن قائم ہوا ہی تھا کہ نئی تحریک شروع ہوگئی، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ فاٹا میں امن کو کچھ ہی عرصہ گزرا ہے اور لوگوں نے ایک نئی تحریک شروع کردی ہے لیکن ان کے لیے پیغام ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں تقسیم اعزازات کی تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب میں عسکری حکام، غازیوں اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے، جنہوں نے فوجی جوانوں کو عسکری اعزازات سے نوازا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ تقریب میں 32 افسران کو ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا، 2 افسران کو تمغہ جرات، 33 افسران اور جوانوں کو تمغہ بصالت جبکہ 4 افسران اور جوانوں کو اقوام متحدہ (یو این) کا میڈل دیا گیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام غازیوں اور شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کوئی بھی میڈل شہداء کی قربانیوں کو نعم البدل نہیں، جبکہ ہیروز کو بھلا دینے والی قومیں مٹ جایا کرتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے دہشت گردوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا، شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم یہاں کھڑے ہیں جبکہ جب تک بہادر مائیں پیدا ہوتی رہیں گی ملک کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان آہستہ آہستہ ترقی اور امن کی طرف جارہا ہے لیکن مکمل قائم ہونے کے بعد ایسا نہ ہو کہ ہم ان شہداء کی قربانیوں کو بھلا بیٹھیں کیونکہ ہماری قوم کی تاریخ یاد رکھنے کی صلاحیت بہت کم ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’فاٹا میں امن کو کچھ ہی عرصہ گزرا ہے اور لوگوں نے ایک نئی تحریک شروع کردی ہے، کچھ لوگ اندرونی اور بیرونی طور پر پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں لیکن ان کے لیے پیغام ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور پاک فوج ملک کی ہر قیمت پر حفاظت کرے گی، پاکستان مشکل دور سے نکل آیا ہے اور اب اس کے اچھے دن آنے والے ہیں۔‘