ریال کی قیمت تاریخ کی نچلی ترین سطح پر۔۔۔ایک ڈالر62,000 ریال کاہوگیا

تہران (ویب‌ڈیسک)ایرانی دارالحکومت تہران سے منگل دس اپریل کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس پیش رفت کے بعد ایرانی حکومت نے ملک میں سرکاری ریگولیشن کے دائرہ کار سے باہر کرنسی کا ہر طرح کا کاروبار ممنوع قرار دے دیا ہے اور ساتھ ہی ایک ایسی سرکاری شرح تبادلہ بھی طے کر دی ہے، جس کے تحت ملک میں ریال اور ڈالر کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے گا.ایرانی دارالحکومت تہران سے منگل دس اپریل کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس پیش رفت کے بعد ایرانی حکومت نے ملک میں سرکاری ریگولیشن کے دائرہ کار سے باہر کرنسی کا ہر طرح کا کاروبار ممنوع قرار دے دیا ہے اور ساتھ ہی ایک ایسی سرکاری شرح تبادلہ بھی طے کر دی ہے، جس کے تحت ملک میں ریال اور ڈالر کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے گا.

ساتھ ہی ایران کے سینئر نائب صدر جہانگیری نے یہ بھی کہا کہ ملک میں جس کسی بھی سرکاری یا نجی کاروباری ادارے نے اس شرح تبادلہ سے ہٹ کر کرنسی کا کاروبار کیا، اسے ’’اسمگلنگ‘‘ سمجھا جائے گا اور متعلقہ افراد یا اداروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی.ایسویس ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ تہران حکومت کو اہم غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر و قیمت کو معیار بنا کر مالیاتی منڈیوں میں استحکام کے لیے یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کہ گزشتہ ویک اینڈ پر ہی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی لمحہ بہ لمحہ بہت زیادہ گرنا شروع ہو گئی تھی

اس دوران پیر نو اپریل کو تو مقامی منڈی میں ایرانی ریال کی قیمت 62,000 ریال فی امریکی ڈالر تک گر گئی تھی، جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی اور جو اس سے دو دن قبل ہفتہ سات اپریل کے روز ریال کی قیمت کے مقابلے میں 18 فیصد کم تھی.نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق سرکاری طور پر ایک امریکی ڈالر کی قیمت 42 ہزار ریال مقرر کیے جانے کے بعد منگل کے روز تہران میں مرکزی ایکسچینج آفس کے باہر ایسے مقامی شہریوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں، جو آئندہ دنوں کے دوران ریال کی قدر میں مزید کمی کے خوف سے حکومت کے طے کردہ ریٹ پر امریکی ڈالر خریدنا چاہتے تھے. اس دوران کئی ایرانی شہریوں نے یہ شکایت بھی کی کہ مارکیٹ میں امریکی ڈالر کافی مقدار میں تھے ہی نہیں کہ وہ سرکاری ریٹ پر یہ غیر ملکی کرنسی خرید سکتے.تہران حکومت کے ایک ترجمان محمد باقر نوبخت نے بتایا کہ 2015ء میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد سے ایرانی تیل اور گیس کی جو برآمدات بحال ہو چکی ہیں، زیادہ تر انہی کی وجہ سے ایران کو سالانہ قریب 95 بلین ڈالر کے برابر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی ایران قریب 80 بلین ڈالر سالانہ اپنے ہاں غیر ملکی مصنوعات کی درآمد پر بھی خرچ کر دیتا ہے.