کوچ مکی آرتھر کی صلاحیتوں کا کڑا امتحان

رواں برس مئی اور جون میں سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئرلینڈ میں ایک اور انگلینڈ میں 2 ٹیسٹ پر مشتمل سیریز میں حصہ لینا ہے۔

بطور کپتان یہ دونوں سیریز نہ صرف سرفراز احمد بلکہ کوچ مکی آرتھر کی کوچنگ صلاحیتوں کا بھی کڑا امتحان ہوں گی۔

یہ بات درست ہے کہ سفید گیند کے ساتھ مختصر دورانیے کی ٹی 20 کرکٹ کے ساتھ ون ڈے کرکٹ میں حالیہ عرصے میں ٹیم پاکستان کی کارکردگی کا معیار بہتر رہا ہے، لیکن اس کے برعکس طویل دورانیے کی ٹیسٹ کرکٹ میں معاملات بالکل اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ٹیسٹ درجہ بندی میں قومی ٹیم 10 ٹیسٹ ٹیموں میں ساتویں نمبر پر موجود ہے اور 7 ماہ پہلے اسے نسبتاً کمزور سری لنکا کی ٹیم نے یو اے ای میں 2 ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست دی تھی۔

49 سالہ مکی آرتھر نے جولائی 2016ء میں قومی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، اس عرصے میں قومی کرکٹ ٹیم نے 17 ٹیسٹ کھیلے، جن میں سے اسے 11 میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو یو اے ای میں کھیلے گئے 5 میں سے 3 ٹیسٹ میچوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

اس تمام صورت حال پر مکی آرتھر کہتے ہیں کہ ‘قومی کرکٹ ٹیم قذافی اسٹیڈیم میں لاہور کے گرم موسم میں سخت تربیت میں مصروف ہے، انھیں اس بات پر یقین ہے کہ جب وہ ایک دن ٹیم پاکستان سے علیحدہ ہوں گے تو اس ٹیم میں مثبت سوچ کا کلچر قائم ہو چکا ہوگا’۔

ان کا مزید کہنا تھا، ‘مجھے اس ٹیم کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے’۔

واقعی اس ٹیم سے انھیں محبت ہے اور جب ایک دن وہ اس ٹیم کو چھوڑ کر جائیں گے تو پوری قوم کو اس ٹیم کی اہلیت پر بلا شبہ فخر ہوگا۔