روسی دھمکی کے سامنے امریکی اتحاد بے بس

روس کی جانب سے سخت جوابی حملے کی دھمکی پر امریکا پیچھے ہٹ گیا، سلامتی مشیروں سے ملاقات میں ٹرمپ نے شام پر حملے سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا، برطانیہ اور فرانس کا امریکا کی آمادگی کا انتظار، روس نے ممکنہ حملہ روکنے کی کوششیں تیز کردیں، عالمی ادارے کی تحقیقاتی ٹیم شام روانہ، کل سے تحققیات کا آغاز…
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ انٹیلی جنس معلومات کا جائزہ لے رہے، اتحادیوں سے بھی رابطے میں ہیں،ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جس میں شام کو کیمیائی ہتھیاروں کےاستعمال سے روکنے پر اتفاق کیا گیا، برطانوی نے ہر صورت میں امریکا کا ساتھ دینے کا عزم کیاہے۔
برطانوی کابینہ نے شام سے متعلق فیصلے کا اختیار وزیراعظم ٹیریزامےکو دےدیا، صرف 22فیصد برطانوی شہری جنگ کے حامی ہیں۔
فرانسیسی صدر بھی شام پر حملے کےلیے پر تول رہے ہیں، ان کا کہناہےکہ کیمیائی ہتھیاروں کےاستعمال کے شواہد موجود ہیں۔
برطانوی اخبار نے ان فوجی اڈوں اور ہتھیار سازی کی فیکٹریوں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر مغرب کے حملوں کا ہدف بن سکتی ہیں۔ ممکنہ حملہ روکنے کےلیے روس نے آج پھر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے۔
روسی سفیر نے کہا کہ امریکی بیانات سے لگتا ہے کہ روس امریکا جنگ خارج از امکان نہیں، روس کی پوری کوشش ہے کہ جنگ چھڑنے نہ دی جائے۔
ادھر کیمیائی ہتھیاروں کے نگراں ادارے او پی سی ڈبلیو کی ٹیم شام روانہ ہوگئی ہے جو ہفتے سے تحقیقات کا آغاز کرے گی، شامی حکومت نے ٹیم کو متاثرہ مقامات تک رسائی کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔