میرے کیس میں آرٹیکل 62 ون ایف قابل اطلاق نہیں ہے: جہانگیر ترین

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف پر ہمیشہ یقین رکھتا ہوں لیکن میرے کیس میں یہ قابل اطلاق نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق فیصلہ آنے پر پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین نے سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
بذریعہ ٹوئٹ جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے ٹیکس ادائیگی سے متعلق مکمل ٹریل فراہم کی اور اپنی قانونی ٹیم کے مشورے سے نہ صرف اپنی جائیداد بلکہ بچوں کے اثاثے بھی ظاہر کیے۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ میری نظرثانی اپیل اب بھی التوا میں ہے اور انشاءاللہ انصاف ہوگا۔

I always believed 62 1(f) to be for life but not applicable in my case.Full money trail provided of tax paid Income, property declared in assets of children and not mine on advice of tax consultant. This was the only issue. My review is still pending and IA justice will prevail
— Jahangir Khan Tareen (@JahangirKTareen) April 13, 2018
 
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا جب کہ اعلیٰ عدلیہ نے آج مذکورہ آرٹیکل کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق دائر 13 درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی۔