شام کے تنازع پر برطانیہ کا امریکا کا ساتھ دینے کا اعلان

برطانوی کابینہ نے شام میں جنگ سے متعلق کسی بھی فیصلے کا اختیار وزیراعظم کو سونپ دیا جب کہ برطانیہ نے ہر صورت امریکا کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے گزشتہ روز شام کے تنازع پر کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جس کے دوران کابینہ نے شام میں جنگ سے متعلق فیصلے کا اختیار وزیراعظم کو سونپ دیا۔
کابینہ میں شامل وزیروں نے کہا کہ بشارالاسد حکومت مشتبہ کیمیکل حملے کی ذمہ دار ہے اور تمام ارکان نے اتفاق کیا کہ اس حوالے سے شامی حکومت سے لازماً پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں شام میں برطانوی فوج کی کارروائی سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جب کہ وزیر ٹرانسپورٹ جو جانسن کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں شام میں فوجی کارروائی کا فی الحال فیصلہ نہیں ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم کو فون کیا اور دونوں نے اتفاق کیا کہ شام کے معاملے پر عالمی ردعمل کے مطابق مل کر کام کریں گے۔دونوں رہنماؤں نے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے مبینہ کیمیائی حملے اور خطرناک رویے پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے حوالے سے اب تک حتمی فیصلہ نہیں کیا جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فرانسیسی ہم منصب ایمانیول میکرون سے بھی رابطہ متوقع ہے جس میں شام سے متعلق اقدامات اٹھائے جانے پر بات چیت ہوگی۔
روس کی جانب سے سخت جوابی حملے کی دھمکی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سلامتی مشیروں سے بھی ملاقات کی تاہم اس موقع پر شام پر حملے سے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔