ثانیہ مرزا کو مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر پاکستانی ہونے کے طعنے

ہندوستانی ٹینس اسٹار اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی بھارتی اہلیہ ثانیہ مرزا کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ’ریپ‘ کے بعد بیہمانہ انداز میں قتل کی گئی 8 سالہ مسلمان بچی کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا۔

8 سالہ آصفہ بانو کے ’ریپ‘ کے بعد بیہمانہ انداز میں قتل کرنے کی امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کی خبر ٹوئیٹ کرنے پر بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے خلاف خود اپنے ہی ملک کے شہری ناراض ہوگئے اور انہیں پاکستانی ہونے کا طعنے دے دیا۔

ثانیہ مرزا نے ’نیو یارک ٹائمز‘ کی وہ خبر شیئر کی جس میں بتایا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی 8 سالہ آصفہ کے ’ریپ‘ اور قتل کے واقعے کے بعد ہندو رہنما ملزموں کے حق میں مظاہرے کے لیے سامنے آگئے۔

ثانیہ مرزا نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’اگر ہم 8 سالہ بچی کو انصاف دلانے کے لیے ذات، نسل اور جنس کی تفریق کے خلاف اٹھ نہیں سکتے تو ہم اس دنیا میں کبھی بھی کسی مسئلے یہاں تک کہ انسانیت کے لیے اٹھ نہیں پائیں گے‘۔

انہوں نے لکھا کہ 8 سالہ بچی کے ’ریپ‘ اور قتل کا واقعہ اور اس پر ہماری سوچ انہیں بیمار بنا رہی ہے۔

بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے یہ ٹوئیٹ گزشتہ روز 12 اپریل کو اس وقت کی، جب آصفہ کے ’ریپ‘ اور بیہمانے قتل کی خبر بھارتی میڈیا سمیت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنی۔

اگرچہ یہ واقعہ رواں برس جنوری میں پیش آیا تھا، تاہم گزشتہ روز اسی واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے حق میں ہندو سیاستدانوں کی سربراہی میں نکلنے والے مظاہرون کے بعد اس معاملے پر بھارت اور کشمیر میں ہندو اور مسلمان ظاہری طور پر تقسیم دکھائی دیے۔

‘ریپ‘ اور قتل کا نشانہ بننے والی بچی مسلمان تھی اور اس کے حق میں مسلمان مظاہرے کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ انہیں نشانہ بنانے والے ملزمان ہندو تھے، جن کے حق میں ہندو مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ثانیہ مرزا کو بھی مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر ہندو ٹوئٹر صارفین نے تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے انہیں پاکستانی ہونے کے طعنے دیے۔