’ملک کیلئے کام کرنے والوں کو عدالتوں میں گھسیٹنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے‘، وزیر اعظم

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے لیے کام کرنے والوں کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے لیکن اب اس سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔
مظفر آباد میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کے پہلے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک سیاسی استحکام نہیں ہوگا، سیاست اور سیاست دانوں کی عزت نہیں ہوگی وہاں ترقی بہت مشکل ہے کیونکہ فیصلہ عوام کا ہوتا ہے اور 30 جولائی کے بعد عوام کا جو فیصلہ آئے گا وہ قبول کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ رہنماؤں کی قدر نہ کرنے کا جو سلسلہ چل پڑا ہے وہ قابل قبول نہیں ہے اور پاکستان کے عوام اپنے ووٹ سے اس سلسے کو ختم کریں گے۔
مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 7 لاکھ بھارتی فوجی مظالم ڈھا رہے ہیں اور یہ مسئلہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، جسے نہ تو ہم بھلا سکتے ہیں نہ اس سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل ہونا چاہیے اور پاکستان گزشتہ 70 برسوں سے کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔
منصوبے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب اس منصوبے کا آغاز کیا تو یہ یقین نہیں تھا کہ یہ منصوبہ مکمل ہوگا کیونکہ اس بارے میں مختلف لوگ کہتے رہے کہ اس منصوبے کو تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری اوپر تنقید کا سلسلہ جاری تھا لیکن کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کی کامیابی ہے جس نے یہ منصوبہ مکمل کیا اور اگر نواز شریف کا اعتماد نہ ہوتا تو یہ کبھی مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ماحول دوست پیداوار ہوگی اور اس منصوبے پر تقریباً 5 ارب ڈالر کے قریب خرچہ آیا ہے جو اندازے کے مطابق کہیں زیادہ ہے لیکن اس منصوبے کا بہت فائدہ ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو بجلی کا بہت بڑا مسئلہ تھا لیکن ہم نے ان چیلنجز کو ختم کرنے کا عزم کیا اور اب بھی 10 ہزار میگا واٹ سے زیادہ کے منصوبے لگائے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ سب سے زیادہ تھا لیکن ہم نے طلب اور رسد کا فرق دور کردیا لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جن علاقوں میں بجلی چوری ہوگی وہاں لوڈ شیڈنگ بھی ہوگی۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نندی پور کے منصوبے پر بھی تنقید کی گئی لیکن ہم نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کا عزم کیا اور آج یہ منصوبہ 550 میگا واٹ بجلی فراہم کررہا۔
انہوں نے کہا کہ اگر گزشتہ حکومتیں اپنے دور اقتدار میں اپنا کام مکمل کرتی تو آج پاکستان میں اتنے مسائل نہیں ہوتے لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ کام بھی کر کے دکھایا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 65 سالہ ترقی اور ہماری حکومت کے 5 سالہ دور کے کاموں کا موازنہ کرلیں، آپ کو ہمارے دور میں ہی زیادہ کام نظر آئیں گے۔
پانی کے مسائل پر ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا حل موجود ہے لیکن اگر ہم نے انہیں حل کرنا ہے تو 2 ڈیم لازمی بنانے ہوں گے اور واپڈا نئے ڈٰیمز بنانے کا عزم رکھتی ہے۔
اپنے منصوبوں پر ان کا کہنا تھا کہ اب تو ہمیں یہ حکم بھی مل چکا ہے کہ اپنے منصوبوں میں تشہیر میں اپنی تصاویر بھی نہیں دیں، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا منطق ہے لیکن ہم حکم پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے صدر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کے ان کے تمام مسائل کو حل کیا جائے گا اور اس کے اثرات بھی کشمیری عوام تک پہنچیں گے۔