بجٹ میں عوام کو نا امید نہیں کریں گے، ہارون اختر

وزیر اعظم کے مشیر برائے ریونیو و وفاقی وزیر ہارون اختر نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں عوام کو ناامید نہیں کرے گی۔
وفاقی وزیر ہارون اختر نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے 5 سے 6 ارب ڈالر سے زائد کی وصولی متوقع ہے جس سے حسابات جاریہ کے خسارہ کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور پاکستان کو آئی ایم ایف سمیت کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی حکومت آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرنے کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے بجٹ میں عوام کو ناامید نہیں کریں گے، ہم بجٹ پیش کر سکتے ہیں تاہم حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر اس کی مشاورت سے بجٹ کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے۔
ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں قرعہ اندازی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس آڈٹ سے استثنیٰ کے لیے سیکشن 214 ڈی میں ترمیم فوج یا کسی دوسرے ادارے کے دباو میں آ کر نہیں کی جارہی ہے آڈٹ کے حوالے سے فوج کی سپورٹ حاصل رہی ہے، فوجیوں کے آڈٹ میں منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو ایف بی آر سے سمجھ رہی ہے اور تعاون کررہی ہے۔انہوں نے ایف بی آرکے ریٹائرڈ لوگوں کی خدمات حاصل کی ہیں اور تمام فوجی ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں ٹیکس ایپلٹ ٹربیونلز عدلیہ کے ماتحت آتے ہیں اس لیے ان بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔